دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 8

A کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر کہ بناتا ہے عاشق دلبر جس کا ہے نام قادر اکبر اُس کی ہستی سے دی ہے پختہ خبر پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے سینہ کو خوب صاف کرتا ہے اُس کے او صاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو اور اک جاں تو چپکا ہے تیر اکبر اُس سکے کیونکر ہمیں دلستاں تلک لایا اُس کے پانے سے یار کو پایا! بحر حکمت ہے وہ کلام تمام عشقِ حق کا پلا رہا ہے جام وہ وہ بات جب اُس کی یاد آتی ہے سے انکار ہو یاد سے ساری خلق جاتی ہے سینہ میں نقشِ حق جماتی ہے دل سے غیر خُدا اُٹھاتی ہے در دمندوں کی ہے دوا وہی ایک ہے خدا سے خدانما وہی ایک ہم نے پایا خور ھدی وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دِل رُبا وہی ایک اُس کے منکر جو بات کہتے ہیں یوں ہی اک واہیات کہتے ہیں بات جب ہو کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اُس دِل ستاں کا حال سُنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سُنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ ہی یوں ہی امتحان سہی براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۶۸ ۔ مطبوعہ ۱۸۸۲ء