دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 9

اوصاف قرآن مجید نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا نا گہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا یا الہی ! تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دُکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اُس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چمکا ہے کہ صد نَيْرِ بَيْضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل ائمی نکلا جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا آگے آگے آگے براہینِ احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۷۴۔مطبوعہ ۱۸۸۲ء