دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 7

عیسائیوں سے خطاب آؤ عیسائیو! ادھر آؤ ! نور حق دیکھو! راہ حق پاؤ ! جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ ! سر پہ خالق ہے اُس کو یاد کرو یونہی مخلوق کو نہ بہکاؤ ! کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ ! کچھ تو خوفِ خدا کرو لوگو ! کچھ تو لوگو! خُدا سے شرماؤ ! عیش دُنیا سدا نہیں پیارو اس جہاں کو بقا نہیں پیارو تو رہنے کی جا نہیں پیارو کوئی اس میں رہا نہیں پیارو اس خرابہ میں کیوں لگاؤ دل ہاتھ سے اپنے کیوں جلاؤ دل کیوں نہیں تم کو دینِ حق کا خیال ہائے سو سو اٹھے ہے دِل میں اُبال کیوں نہیں دیکھتے طریق صواب؟ کس بلا کا پڑا ہے دل پہ حجاب؟ اس قدر کیوں ہے کین و استکبار؟ کیوں خُدا یاد سے گیا یک بار؟ تم نے حق کو بھلا دیا ہی بات دل کو پتھر بنا دیا ہیمات ے عزیزو! سُنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں اُن یہ اُس یار کی نظر ہی نہیں