دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 345

۳۴۵ نسیتی از خدا تو سازشناس همه برگان و هم بست احساس تو خدا کے رازوں کو نہیں پہچانتا تیری ساری بنیاد مطلق اور وہم ہے بینہ ہے آنچه گوئی و راه کیبرد خود پیش از مین گفته اند قوم میود تکبر اور انکار کی وجہ سے جوکچھ رکھتا ہے اس سے پہلے یہودیوں نے بھی یہی کہا نفس کو قربه در توخته همه ابواب آسمان بسته تیر انفس موٹا ہے اور ڈوگر بیچارہ اور آسمان کے سب دروازے تجھ پر بند ہیں ایس پر غفلت کر خوش بین کشی و از خدا هیچ که نیندیشی یہ کیا غفلت ہے کہ تو اس روش پر خوش ہے اور خدا تعالٰی سے بالکل نہیں ڈرتا بسا ہاں اسے بسار او با کرملین صواب پیش کو رال نظامی استعجاب بہت سے ساز میں ہو اسلئے صداقتیں ہیں۔مگر اندھوں کے لیے وہ تعجب کا مقام میں رہ طلب کین بگریه داری تا بجوشد تر تمیم باری روند کر رستہ ڈھونڈا کہ خدا کا رحم ہوش میں آتے ایک یک شب از صدق نمره با بردار پیش آن عالم حقیقت کار رس اوراق حال خدا کے سامنے ایک رات خلوص کے ساتھ آہ و زاری کر از ادب نے براہ اشتہار دو مرد خواہ اندریں اسرار نہیں بلکہ ادب کے ساتھ پھر ان اسرار کے کھلنے کے لیے اس سے مدد مانگ ترکی ناشک خویش بیست ویش با زلب را کشانے بادل ریش را اپنے آنسوؤں کے ساتھ اپنے بستر کو ترکرا۔پھر زخمی دل کے ساتھ یوں عرض کر