دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 346

کائے خدائے علیمہ راز نہاں کے مسلمت رسد ولی انسان کہ اے علیم عام پوشیدہ رانوں کے وقت تیرے علم تک انسان کا خیال کہاں پہنچ سکتا ہے وں ایک ندیده اند آن نور کال در آدم تو داشتی مستورد جب فرشتوں کو بھی وہ نور نظر نہ آیا۔ہو تو نے آدم میں پوشیدہ رکھا تھا اچه چی کی دلی است چه چیز ہے تو درصد خطر ف اس دنیز تو ہم کیا ہیں اور ہمارا علم کیا چیز ہے بغیر تیرے عقل اور تیز کو بھی بے حد خطرہ ہے نا خطا کار رو کار است خطا شد به کار ما نه عجلت ما ا کار ہیں اور ہمارا کام بھی قل ہے اور مارا سب کام ہماری جلد بازی کی وجہ سے تباہ ہو گیا گر ریاست ایک سوئے تو خواند و ز تو بہتر کدام کس داند ی ہو میں یہ بات جاتا ہے تیری بات سے ہی ے دور کون تجھ سے بہتر حقیقت حال کو جانتا ہے گفته ما به بخش در چشمه گفتا تا نمیریم از خلاف د ابا تو تو ہمارے گن پخش اور ہماری آنکھیں کھوں تا کہ ہم مخالفت اور انکار کی حالت میں نہ کریں وریہ این اتلانو ما بردار که رحیمی و قادر و غفار دور نہ ہم سے اس انتبلا کو ڈور کر کہ تو رحیم قادر اور عقارا ایل اخلاص پول کنند دعا از سر صدق و ابتهال و بیکا جب اخلاص والے لوگ دعا کرتے ہیں صدق - عاجدی اور گریہ و زاری کے ساتھ شور افتد از ان در اہل سما زال اسد حکم نصرت و ایوان قداس اسے آسمان والوں ہی شور برپا ہو جاتا ہے اور وہاں سے نصرت اور پناہ کا حکم بھی جاتا ہے ورند ہے