دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 344

۳۴ سرکہ جہاں سریاب با خر است بیاره ما نقدر او شناخته است باخته جس نے بھی اپنی جان خدا کے لیے قربان کی۔ہمارے خدا نے بھی اس کی قدر قریب پہنچائی ازمگان کمتر است دشمن او بد گهر کوفته زیادن او اس کا دشمن کتوں سے بھی بدتر ہے وہ دراصل خدا کی اوکھلی میں کونکا جاتا ہے بست از عادت خدا نے فلم کے کند فرق در سیعد ونیم خدائے علیم کی یہ عادت ہے کہ وہ نیک بخت اور بد بخت میں فرق کر دیتا ہے پہنچ والی ٹیم را چه نشان آنکه او دشمن امام زمان کیا تجھے خبر ہے کہ بد بخت کی کیا علامت ہے وہ امام زمال کا دشمن ہوا کرتا ہے آنکه او آمداز ندائے لیگاں پیش چشمش تخیل مغترباں جو خدائے واحد کی طرف سے لاتا ہے اس ٹیم کی نظر میں وہ مفتری لوگوں میں سے ہوتا ہے۔کر نبودے شقی و کریم ہیں تو یہ کر دے گفتگوئے چنیں شقی تو بہ کردے اگر وہ شقی اور زمین کا کیڑا نہ ہوتا۔تو ایسی گفتگو آنچه با من کند عنایت یار کے بغیر سے شنیدی اسے مروار مرواری وہ یار جو عنایت مجھے پار کرتا ہے اسے مردار کیا تو نے ایسی کسی اور پر بھی گر شعار تو اتقا بودے مشعل مغیب رھنما بودے اگر تقدیمی تیرا شعار ہوتا۔تو غیب کی مشکل تیری رہنما ہوتی ظار بود تو صدق ہوتا ر اے سیہ دل تر بصدق چکار اتھا کی علامت صدق ہے اسے میرا دل انسان مجھے صدق سے کیا مطلب