دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 187

IAL ان تان خودی خود ایرانی رکن کیسے آر یا پاکی بر ترین و سنت سال انی کی اس شاخ کویر سے کاٹ لالا یونہی ناپاکی سے نفرین دواجنت کا پھل پیدا کرتی ہے از زن مالی با کی بود بردارد بینی انار یک دایر کنیز است را میرے حال دل کے چین سے پردہ اٹھایا جائے کوئی اس میں اس پاکی و طلعت معشوق کا چہرہ دیکھ لے گا روع اور خشت و نام قص را روشن گریت کے اس ماه میدارد بصیرت را س کے درویش کی عملی سے ہمارے ہم قریشی ہیں لیکن اسے وہی دکھتا ہے جو بصیرت رکھتا ہو تھیلی ومت میں جانتا ہی واست کارتر وں نے کے ابا شد ساعت کو کی ناو موت نے مجھ پربڑی حماقتیں کی ہیں ور ت ہو یا اسان کس طرح اس شد بات کرتا انان را می خوانند از دست نگه مینی خود حقیقت را تیترا اری ایم کے انا نے عریاں ہیں جوں نے تم سے میت درحقیقت اور منور کر کے پھینک دیا عرفی و نور پردہ ان کی پوشیدا نانی با این رے کے کان اور رات ر کے پر اور اپنی عقل ودانش و میاد یا ام اس رب کے لیے خواہشتم میں سے پاک کی تو الی کے ند از دقت شیطان بال در دست داشتند و این خون کو بیس برای بافت را رانے تو شیطان کا نقصان سے بیان کیا ہے تاکہ یہ جانیں کہ بری عادت نگار کو بھی شیطان بنا دیا ہے۔الی می کند بر خود لاحاصل را از نی نی بانی باید در سمت را انی عربی مادہ بھائیوں میں بسر کردی گر حقیقت کے لیے اُن کو ایک لحظہ کی قرصہ وات او مال و یا شست بر بال کانال انتقال کے کون در نشست سال ظاہری سب کے لیے میں بھی ان کی بات اگر است حال ہے کہ یہ خیالی سے نالانسان شریعیت کو سمجھ سکتا ہے