دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 188
مسیح بامری را که نام قمند میگردونون شیر یا خداوند این نیات را پیچ امری کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہیں۔گر حضرت صلی الہ ہم کو فیضیت نہیں دیتے وئے بلو روان و مودم انا بودند پسندیدند درشان شفیق این قالت برا کہ ان دونوں کی خوشبو سے اول محرم تھے اس لیے اہانت و عالم کی شان میں یہ بات پسند کی ہونا نے اس بار جومات کے سنگینی برای ایشان اگر گشت مت | کے ایام میں کوڑے کرکٹ کی طرح پھینک پانی کے نام کی وجہ سے یہ اسلام کا تا نقصان ہوا یانه ای از متقال خود مرد دادند ولیری باید آمد پرستاران میشت را نہوں نے اپنے قید سے تو میں یوں کی ان کی اسی وجہ سے مردہ دوستوں میں بھی دلیری آگئی این کار را با روش های شیمایان زیاد دیدار که شاید نصرت را این ایام میں یا اس کی دید کی کو روکا ہوں کہ ان فریاد کرتا ہے کہ جلدی حدود کو پہنچے ای بیان و هم چنین قاقل تجاری هم دم باری با دو دست شست را میری رات چود کا خون اور قوم قائل میں تم سے کہاں جاؤں بے یارب خود دست بصورت دکھا ان گیری شان کیلئے خود می ترسم این کانال تیرے کرمی بخشید فقرات را ب چھپ سکتا ہے جو ندائے میری فطرت کو بخشتا ہے انوان شان نادر من دشنه آرد و صادق بتوان بود گرید قیامت را کی کے شور سے میرے دل میں گھر بہت انہیں پیا سواتی صادق کبھی پیدا نہیں ہو تا را قیامت کو دیکھے میر و ۱۳۹۳ )