دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 162
۲۶۲ مودم و سراچه در این کار اختیار معمایی سخن میگی بهداد نه امر مرد رو میں تو مامور ہوں مجھے اس کام میں کیا اختیار ہے یا یہ بات میرے بھیجنے آمرم کے انکر سوئے من بدیدی بعد تر از بانیان تیرس که من شناخ مرم ے اور میری طرف کیوں کہ اے لے کر دیا ہے بانجان سے ڈر کیونکرمیں ایک پھلدار شاخ ہوں حکم است اسمال دیں میر سانشو بشنوم و یکیش آن را کجا برم امل کا کرمیں نہیں کہ بناتا ہوں۔اگر اسے سنوں اور لوگوں کو سنوں تو اسے کہاں لے جاویں ے قومی من بگفته من شندل باش ناقل چنین محجوش بین تا باکترم اے میری قوم میری ناول سے آزاده و شری بی بی بو نہ دکھا کر آخر تک میراحال دیکھ ان خود گریم اینکه طرح خدا ملی است می یافت ست خون بدن نقش دارم نگنا نے برت مکرم رقوم خویش یا رب بنا تے کہ دین کا موام یانی قوم کے بہت پیست ای ی ی ی ی ی و سیاسی و روانی راہ میں پریشانی سے ہے اور ہے اس کے چمدان است نگرش و نور دل کی زبان شمال که نزدیک دم ان کی بات یہیں کان اور دل کی دوستی سوائے ایک نہ ان کے جس کی ایک دوسم بھی قیمت نہیں گفتم مرفوع عبادت شمرده اند و چشمه شال عید نماز بر مزدورم ای ہوں نے مجھے میں کہنا جہادت سمجھ رکھا ہے۔ان کی نظروں میں میں ہر کتاب سے زیادہ پلید ہوں لے دل آویز خاطر بیان نگاه دار کا فر کنند دعوی محبت پیمبرم تاہم اسے دل تو ان لوگوں کا لحاظ رکہ کیونکہ اس میرے پیغمبر کی محبت کا دھواسے کرتے ہیں