دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 161

آن که پر حمت نمایش ان راکہ حق پر ہی خداش مدام داد چون بر خلات معده بین دوره از ارم جسے خدا نے جنت الخلا میں جگردی دوم اسے اپنے وعدہ کے برخلاف فرد اس میں سے کیوں نکالے پول کافراد شہر پر تشد مسیح مانیتوری ضد البرش کرد همسرم خدا جو کہ کافر ہے فائدہ میچ کی پرستش کرتا ہے اس لیے قدر کی غیرت نے مجھے اس کا سر تا دیا در یک نتی کانپ ارتان ز خور کی ناز و کشف شود این راز منی جا۔اور قرآن کی طرف نظر غور کر تا کہ میرا پوشیدہ راز مجمع پر کھل۔لیب از یارب کجاست مورم از مکاشفات اور باطنش خبر آرد به مجرم اے میرے رب بہ کا قات کا ر نہ جانے والا کہاں ہے۔تا کہ اس کا تور بالن انحصر ہے شہر لاتے ن بار در مورد گیتی بیجار دیم بعداز بیزارد سه کیت کند در حرم اس تینہ نے پودھویں صدی میں اپنا منہ دکھایا۔حرم سے بہت نکالنے کے تیرہ سو سال بید پوشید آنچنان کریم منبع فیوض کا لو ندائے یار زہر کو ئے دسمبرم۔اسے محترم بویت های صبور باش تا خود دانیال کند آن تو را انتوم الے مرض خدا کا خون کرد را صبر کرو تاکہ خدا خود میرے مادے کی روشنی کو ظاہر کر دے است نخوانده که مان نمو کنید چون روی برون بعد ودش برادرم کیا تو تے نہیں پڑھا کر نیک نیتی سے کام لو میں اے بھائی تو اس کی حدوں سے باہر کیوں جاتا ہے۔بر من چراستی و چنین خیر زیبا از خود نیم از نادیه فو الجد اکرم اے دو نیم از مجھ پر جو اس طرح نہ ان کی چھری کیوں چلاتا ہے میں خود نہیں آیا بلک خداتعالے نےمجھے بھوجا له أنت قلت الناس الخ