دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 90

1 ۹۰ آن حفیظ و تقدیر ورت عباد نزد شال اوفتاده همچھ جماد وہ حقیق وقد پر اور بندوں کا ریت ان کے نزدیک جماعات کی طرح بے جان پڑا ہے خود پسندان بعقل خویش اسیر فارغ از حضرت علیم و تقریر مورد پسند اور اپنی منقل کے امیر ہیں اور شہدائے علیم و تقدیر سے بیگانہ ہیں نکه خود بین موجب افتاد است حضرت اقدسش کجا یا دراست وہ شخص جو خود پسند اور منکر ہے خدائے پاک اُسے کہاں یاد ہے ر کے مشاق معهم بست و بنیان نشنیدیم عشق و کیز انهاز عاشقوں کی عادت تو سجود و نیاز ہے ہم نے کبھی عشق اور تکبر کو ساتھ ساتھ نہیں پایا گر بیوٹی سوار این رود است اندره آنجا بچو که گردی هاست اگر تو اس سیدھے راستے کے سوار کی تلاش میں ہے۔ تو وہاں ڈھونڈھ جہاں گرو اٹھ رہ ہی ہے۔ اندر آنجا بود که ندور نماند خود نمائی و کبر و شور نماند اسے ایسی جگہ ڈھونڈھ جہاں زور نہیں کہ ہا نتیجی نہیں رہی تکبر اور شور نہیں رہا فانیان را جهانیان نوسند جانیاں برا زبانیان نرسند اس دنیا کے لوگ فانی لوگوں کو نہیں پہنچ سکتے بد زبانی اعلی سچے عاشقوں کو نہیں پہنچ سکتے خلق و عالم همه بشور و تراند عشق بازان بعالم دگر اہم تمام مخلق اور جہاں شور و شر میں مبتلا ہے- لیکن عاشق ایک اور ہی عام انتم عالم میں ہیں تا نه کار دلت بجال بر سد چون پیامت از داستان بره برسد جب تک تیرے دل کی طرح موت کی متک پہنچ جائے تب کہیں دیر کا نام تھیک کیونکہ پہنچے گا اس