دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 381

فتح و نصرت خادم ما چون غلام الله يعلمنا ولا نعلی بدام فتح و نصرت غلاموں کی طرح ہماری خادم ہیں اللہ ہم کو غالب کرے گا اور ہم کبھی بھی مغلوب نہ ہونگے را فضل ۳۱ دسمبر ۱۶۱۹۱۳ د که او را بیان نماند این خود میاں مگر اثر از این نامه فسوس کہ قرآن کے چیر کی خوبصورتی ظاہر نہ ہی گر واقعہ یہ ہے کہ وہ خود تو ظاہر ہے لیکن اس کے قصر شاہی نہ رہی موم طلب کند که ایجاد آن کجاست دارد و در این که الان دانانی پوچھتے ہیںکہ اس کا جان کہاں گیا جانتے ہے لیکن سخت رنج اس کا ہے کہ کوئی الجاز واں نہیں رہا کوری ها د کمال تناقل بچشم ما آن نے خوب گیسوئے عنبر فشال نمائند قدیم دادمان ہم خود توافہ ھے میں گرم در قلات کی وجہ سے بھاری نظریں وہ خوبصورت پر مادر خو شبو دار ز نہیں کلیوی رہیں یم کے رکے ریفرنس میل است کسی اعمال شاعت فرقان بجای نماند میں دیکھتا ہوں کہ شخص اپنے ذاتی تفکرات میں بہتا ہے۔ کسی کو بھی قرآن کی اشاعت کا فکرا نہیں وس شنیده ام کاشت کاروں میں این اینی که هیچ کس کا مال نماند میں نے یوست کی بابت سنا تھا کہ تانکہ تھے اس کی رکی تھی و پوست کی ہے کرتے تھی نام کا شد و هم این کتاب یا نا دانست که خود ایده جای نماندم اس کتاب کے غم میں میری جان کی اب ہو گئی اور میں اس تدار جل گیا ہوں کہ بھنے کی کوئی امید نہیں بجھنے کی وش ان کے مری چائے کیب بود شب بیس سال کے تاب توال نماند کسی خیال کی وجہ سے کسی کسی قدر مجھے میر تھا مگر ایک رات میرا حال نہ یہ ہے کہ کچھ بھی ناب نظامی باقی نہیں رہے F