دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 382

ای اداری نے قیت نصرت است در استان سرائے اکیس با بال تمام ے مخلوقات کے سردار دو فرایہ نصرت کا وقت ہے کیونکہ تیرے باغ میں کوئی بھی با تہاں نہیں رہا ند یار تلقی را کنترانه خواهی اگر بیر چین کیش فرمان نهان نمانه میں خوشی کے اس کے کٹاں نہیں ہوں اور قومی کروں۔اگر یہ دیکھ لوں کہ قرآن کا دل کش جمال پوشیدہ نہیں رہا در رنج و درد سے گذر انجم روز گار یارب تر میکو دگر مربیان نماند ہماری اردو میں زندگی گذار رہے ہیں اسے اب ہم فراک تیرے سوا ہمارا اور کوئی حیران نہیں رہے یارب چه برون غم زنان نقد است یا خود دریں زمانہ کے راندال تماما کیا میری تقریریں ہی فرمان کے لے کر ان کا ہے یا ان میں سے ہے اور کیا مانی حقیقت ہی نہیں دیدم که الان رو فرقان گذاشتند تا امد ولم اثر هر شان نماند ا ا ا ا ا ا ا ا ر ا ن کا یہ چھوڑدیا ہے اس لیے ہر سال میں بھی ان کی محبت کا نشان باقی نہیں رہا سے خواجہ پنج روز بود ولی زندگی کی اپنے دام دیں تاکمان نماند سے خواجہ از زندگی کا لطف چند دن کے لیے ہے کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہا امرزد گردل از پنے قرآن نمودت سے دور تر انجناب بیگاں نماند اگر آج کے دن تیتر اول قرآن کے لیے نہیں جلتا تو پھر علم کی درگاہ میں تیرا کوئی ملایر باقی نہیں رہا نگدار در دو نوری شغل غزل و شعر این خود چه می بست دارید به آن تمام ی کے دور اور قول کے ملا کر چھوڑ پر چین کی حقیقت رکھتی ہیں اگر قرآن ہی کی قدر نہ رہی طوبال شاینی و صدتا ز سے کلی آن را کیتی است کس از خادمان ناتمام کو روکوں میں یہ کمیٹیاں تیرے سکتا ہے گروہ جو اعلی سردار ہے اس کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں