دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 368

۳۶۸ تا نه بعید صبوریش ناید هر ومش سیال عشق بر باید ہے۔ اور جب تک اُسے نہیں دیکھ لیتا اسے مہر نہیں آتا۔ عشق کا سیلاب اُسے بہائے لیے جاتا در دل عاشقال قراره کجا تو بہ کردن و روئے یار کجا عاشقوں کے دل ول کو کہاں قرار ہے دوست کے منہ سے رو گردانی کسی طرح مکن ہے نی جانتان بگوش خاطر شال گفت رازی که گفتنش متمان ازے اور یا 1 ن ہے مجوب سے حسن تے اُن کے دل کے کانوں میں وہ راز پھونک دیا ہے جس کا اظہار ناممکن کامیا مال و زریں جہاں نا کام تیر کال دور تر پریده نو دام یہ لوگ کامیاب ہیں مگر اس جہان سے نا مراد، یہ لوگ عقلمند ہیں جو جہال سے اٹھ کر دور چلے گئے ہیں از نور و نفس خود خلاص شده سبط فیض نور خاص شده وہ اپنی خودی اور نفسانیت سے آزاد ہو گئے اور اتوار املی کے بیان کے نزول کی جگہ بن گئے - در خداوند خویش دل بسته باطن از غیر یار بگسسته انھوں نے اپنے خدا سے دل لگا لیا ۔ اور غیر اللہ سے اپنا دل توڑ لیا پاک اند ودخل غیر منزل دل یار کرده جان و دل منزل فیر کے نچل سے ان کے مال کا خانہ پاک ہے اور دوست نے ان کے جان دول میں گھر نا لیا ہے۔ یده ریده شد۔ آنگانہ مثال ہوئے دلبرو نہ سیدہ مشال ی کے رنگ و ہوس کا شیشہ چکنا چور ہو گیا۔ اوبر کی خوشبو ان کے بیتہ میں سے جنگ رہی ہے۔ نقش بستی بهشت جلو و بار سرزد آخر د جیپ دل دلدار بار کی تجلی نے ان کے نقش ہستی کر دھوڈالا اور ان کے دل کے گریبان سے یار نمودار ہو گیا