دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 367
۳۶۷ دل این درد وغم نگار بین اول چه جان نیز هم شار یکن م اس درد و غم سے اپنے دل کو زخمی کر دل تو کیا اپنی جان بھی قربان کر دے است کارت همه با یکذات چون صبوری کنی از و هیهات تجھے تو اسی خدائے بیگانہ سے ہی کام پڑے گا۔ افسوس پھر قوم اس خدا سے کیونکر صبر کر سکتا ہے پخت گردو په ز وبگردی باز دولت آید نه آمدن به نیاد جب مروند سے روگردانی کرنا تیری قسمت بگڑ جائے گی اور عاجزی کے ساتھ اس کی طرف آنے میں دولت لے گی اسے بین ہائے ہو کر وہ دراز ہیں ہوس با چر اپنائی باد با اے وہ شخص میں نے خواہشوں کی رسی لمبی کر دی ہے تو ان لانچوں سے کیوں باز نہیں آتا دولت عمرو میدم بزوال تو پریشان بیشتر دولت و مال کم عمر کی دولت و میدم کمی پر اللہ خویش و دیدم کمی پر ہے اور تو پر و بال کی فکر میں پریشان ان ہو رہا ہے و قوم و قبیلہ پر ز دعا تو بریدہ برائے شال و خندا رشتہ دار۔ قوم اور قبیلہ سب دھو کے باز ہیں لیکن تو نے ان کی خاطر خدا اسے قطع تعلق کر لیا ہے این همه به انگشتنت آهنگ که بصلحت گشتند گاه به جنگ سب کا ارادہ تیر سے قتل کرنے کا ہے کبھی یہ صلح کر کے تجھے قتل کرتے ہیں کبھی جنگ کر کے است آخریان خدا کارت نہ تو یار کسے نہ کس پارت آخر موسی خدا سے تیرا واسطہ پڑے گا۔ نہ تو تو کسی کا دوست ہے نہ کوئی تیرا دوست هر که دارد یکے دل آرا نے جب پولش نیا با آرامی جو شخص ایک معشوق رکھتا ہے اُسے بغیر اُس کے رسل کے آرام نہیں ہوتا