دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 362
A و گریتین نیست خواهش انسان اپس چه باعث کر و یادش هر آن اگرانسان کی خواہش تعین کے لیے نہیں ہے تو کیا بات ہے کہ وہ ہر گھڑی اُسی کی تلاش میں رہتا ہے آنچه در فطرت بشر مکتوم چون بمانده بشر از و و محروم محروم و کچھ انسان کی فطرت میں مخفی ہے انسان اُس سے کس طرح محروم رہ سکا ہے انسان سے کسی محروم رہ ہے پر فیض است چون روال هردوم ق تا رسانند تا یقین اتم جب ہر وقت فیضان الہی کا سمند ر جارہی ہے تا کہ تھے تجھے کامل یقین تک پہنچائے پس اگر مخالفی بمظنونی تو نہ عاقل که سخت مجنونی پھر بھی اگر تو کلن پر قانع ہے تو تو عقلمند نہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے دل پیاز برائے رفیع حجاب بروئے کار شد است کچھ کتاب ول تو چاہوں کے دور کرنے کے لیے بیقرار رہتا ہے سوائے ایسے دل کے جو کتوں کی مانند ہو گیا ہے ) انلا تبصرون گفت خدا خیر و در نفس به تعقش با و در به کیا خدا نے افلا تبصرون نہیں فرمایا۔ اُٹھ اور اپنے اندر پیاس کو تلاش کر همیت دون مدار چوں ڈونال رو بجو یار را چو مجنوناں ذلیل لوگوں کی طرح ہمت پست نہ رکھا جا اور خدا کو دیوانوں کی طرح ڈھونڈ هر که کر جو بائی ادست یافته است ناخت آن شود که سر نشناخته است جو اس کا طالب ہے اُس نے اُسے پا لیا وہ منہ تورانی ہو گیا میں نے اس سے سر نہ پھیلا ہے۔ آخرین غذا مال مردے کو بیل در شد است چون گردے خدا کی طرف سے اُس جوانمرد پر آفرین ہو۔ جو اس دروازہ پر خاک کی طرح آپڑا ے میں کیا تم نوری میں کرو گے؟