دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 325

صد سر که روی کام یافته است راز این رو تمام بافته است میں کو ذوق گفتار نصیب ہو گیا اس نے عشق کے راستہ کا سارا ساز معلوم کر لیا زیر لب گفتگو نے بھانا نے زندگی بخشدت بیک آنے مجوب کی شیریں کلامی پل بھر میں تجھے زندگی عطا کر دے گی ونے کو عذاب بھر میں علم اصل اس ہست لایک کر دوو بونم کی طرح عذاب سے پر ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے ک خدا تعالی ان سے کام نہیں کرے کہ کہ دل ول به گروه صفانه خیر دیم تا چه موسی نے شوی تو کلیم چہ نہ دل صاف ہوتا ہے نہ خوف دور ہوتا ہے جب تک تو موسی کی طرح کلیم نہ بھی جائے بست دارشتے دل کلام خدا کے شوی مست جز بم ای خدا دل کی دوما خدا کا کلام ہے تو خدا کے ان جام کے بغیر ہی اب کیونکر ہو سکتا ہے؟ تانه او گفت خود انا الموجود عقدہ بستیش کے نشود جب تک اُس نے خودانا الموجود نہ کہا تب ایک اس کی سہستی کا عقدہ کوئی کھول سکا تا نشد مشعلے زطیب پدید رو شب تار جمل کس ندهید روش به جب ایک غیب سے مشعل ظاہر نہ ہوتی تب تک حالت کی اند میری بات سے کسی نے رہائی نہ پائی تان نه خود دادار تا در خود را نمود خود دادار کس ندانست کرتے اس خانوار جب تک شعرا نے خود اپنے تئیں ظاہر نہ کیا تب ملک کسی کو اس دلدار کی گلی کا چند انہ لگا اده خود ادان می بخشد کسی زندانی بی شک زمید جب تک اس نے تو اپنے کلام کے دید یعنی بخش نفت تک کوئی شک وشبہ کے قید خانہ سے آزاد نہ ہوا "