دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 326

ی باشد و دستی و سعاد این است با خوش بنیاد ہوار منافق اور سلاد کی جو ہا تک بھی ہو۔بغیر یقین کے اس کی بنیاد کرور ہوتی ہے کرتیں میں بنانے کال از محالات قوت ایمان ہے۔تو قوت ایمان نا ممکن بے نہیں بیچ دل نیا سوده ست ہے کل فضول میں کوئی دل بغیر یقین کے آرام نہیں پاسکتا علیمات یقیں کس نہ رستہ نہ دارم دیو میں بھی یقین کے اور بغیریقین کی شیل کے کوئی شخص شیطان لعین کے پھندے سے آزاد نہ ہو سکا ہے تین برگر درست کسے دانم احوال شیخ و شاب ایسے یقین کے بغیر کوئی شخص بھی گناہ سے نہیں چھٹتا میں بہت سے بوڑھوں اور جوانوں کے حال سے آگاہ ہو سد اس خطہ ہے کہ ذات اوست نہاں دورتر از در چشمه عالمیان خط وہ خدا جس کی بات پوشیدہ ہے اور اہل جہان کی آنکھوں سے بہت دور ہے برده بودش یقین جهان آید گر نظر نیست گفتگو باید ان کے وجود پر کسی طرح یقین حاصل ہو اگر دیدار نہیں تو گفتگو تو ضروری ہے۔مین بیب بیت حاجت گفتار گر میر نے شود دیدار اسی واسطے امام کی ضرورت ہے کیونکہ خدا تعالے ظاہری پکھوں سے نظر نہیں آتا ہے کلام و شہادت آیات کے تمھیں میشود کہ بہت آن خواست بغیر کلام الہ نشانات کی گواہی کے کسی برج یقین آئے کہ وہ ذات موجود ہے