دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 319

۳۱۹ اگر ملکو او خبر داشتے یہاں دانش نیز نگذاشتے اگ منکو کو اس کی خیر ہوتی تو خواہ جان دینی پڑتی مگر اس کا والی نہ چھوڑا بهر منیش مخطاب از خداست دورینا و بین این گمانها چه است خدا کی طرف سے سر شبیر اس رسول کا خطاب ہے۔تو افسوس اس کے بعد فضول گمان کیوں ہیں گر کیک سے گم شود آفتاب شود خاکم از نتیرگی با خواب اگر آفتاب ایک روم کے لیے بھی غائب ہو جائے تو دنیا اندھیرے میں مہنہ ہو جائے خردمند نیکونش طبع را است نتابد سر از آنچه می دیده است ہر شخص عقل مند صالح اور نیک فوت ہے وہ حقی اور بھائی سے بو گرانی نہیں کرتا چوبند سخن را از تن پروری دگر در سخن کم کند۔داوری حق جب وہ حق شناسی سے بات پر غور کرتا ہے تو پھر وہ اس بات میں جھگڑا نہیں کرتا مشو عاشق زشت رو زینهار و گرخوب گم گردد از روزگار برگر کسی بد شکل کا عاشق نہ ہو چاہے دنیا سے حسین گم ہو جا ہیں مکافات دارد و همه کار و بار تو خار و خسک تا توانی مکار ہربات کی جودا مرا مقدر ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہے تو کانٹے اور گوکھرو ازمین از تراعت نمی داشتن به از تخمه خار و خسک کاشتن دین کو زراعت سے خالی رکھنا اس سے بہتر ہے کہ اس میں کانٹے اور گوگوری بولے جائیں۔نہ ہے دولت من کہ فضل مجید ملاند دیں اعتقاد آفرید ے میری خوش قسمتی ہے کہ خدا کے فضل نے مجھے اس انتقاد پر پیدا کیا ہے۔