دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 267

کیک دل ہے ملی توشی شب روز حق است که او خام مادری باشد کا تعلق کی خاطول رات بچین رہے یہ ثابت شدہ بات ہے کہ وہ ہی لوگوں کا خادم ہوا کرتا ہے نہیں جانی نیا و دیں ز جا برد اگر تو تمت ما ظل شان بجده باشد حادثات کی نازیگری دین کی بنیاد کو بہا دے اگر ہمارے مذہب سے ان لوگوں کا سایہ الگ ہو جائے این بود که هر سال صدی تمام شود امید آنکه بری نایب خدا باشد لیے خدا کا قائمقام ہوتا ہے ہیں جی ہے کہ جب صدی کے سال ختم ہوتے یا ا ا ا وا ہوتا ہے جو ان کیلے اداکار رسید مژده زنیم که من مال مردم که او مجد و این دین در هنما با شدم مردم مجد این مجھے غیب سے یہ نو خبر ملی ملی ہے کہ میں وہی انسان ہوں جو اس دین کا مجدہ اور راہ نما ہے لوائے ما پتہ ہر سعید خواهد بود ندائے فتح نمایان بنام ما باشد ماپتہ اید بود ہمارا جھنڈا ہر خوش قسمت انسان کی پناہ ہو گا۔ اور کھلی کھلی فتح کا سہرہ ہمارے نام پر ہوگا ره عجب دارد اگر خان سوئے ماید وند که سر کجا کہ غنی سے بود که با شد اگر مخلوقات ہماری طرف دو ٹکر آئے تو تعجب نہ کر کہ جہاں دولتمند ہوتا ہے وہاں فقیر جمع ہو جاتے ہیں۔ رہوتا ہو گئے کہ وئے خزیوں کے نخواهد دید باغ ماست اگر قسمت درسا باشد ت وہ پھول جو کبھی خیال کا منہ نہیں دیکھے گاوہ ہمار سے بائع میں ہے اگر تیری قسمت یا ور ہو منم مسیح بیانگ بلند ہے گویم منم خلیفہ شا ہے کہ برسا باشد میں بلند آواز سے کہتاہوں کہ میں ہی صیح ہوں اور میں ہی اس پادشاہ کا خلیفہ ہوں جو آسمان پر ہے تقد است کر نے پریں اولیم میں بہار بہاول جاں پر رہم خدا باشد و بات نقاد ہو چکی ہے کہ ایکشن نے وہیں پر ہزاروں جان و دل میری راہ میں قربان ہوں گے شاٹ