دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 265

۲۹۵ و بیلوال بدر آید ز نز درت کردم بهروش مد و صدق مدعا باشد ات کریم کے پاس سے وہ ایک پہلوان کی طرح ہی ہے اور ہر لفظ اس کا مقصد یہی ہوتا ہے ک صدق کی موکرے چه دست که نباید برد کشتی و جنگ با این امید که نفسے مگر رها باشند تی اور ان کے دن بھی کرتے دکھاتا ہے اس امید پر کہ کوئی جان نجات پا جائے مہیں ست طالعه برگزیدگان خدا میں علامت سال از خدائے ما باشد یسی خدا کے برگزیدہ لوگوں کی جماعت ہے ہمارے خدا کی طرف سے ان کی یہی نشانیاں مقرر ہیں خدا کی سے سے ان کی یہی استانیاں جنگ حرب گذارند مردمیکه بود که تا حفاظت مردم رفته ها باشد۔ وہ اپنا ہر سانس جنگ اور لڑائی میں گزارتے ہیں تا کہ فتنوں سے لوگوں کی حفاظت ہو نیرو هایت بگذر و شب اندر توان کره پاسبانی ایشان بعد عما باشد تیری بات آرام سے نیند میں بسر ہوتی ہے اس لیے کہ وہ بڑی دردمندی سے تیری پاسبانی کرتے ہیں غلام ہمت مردان کار را ارباش که آن مروان از مردم و فاباشند توان مردمان کار اسکی بہت غلام بن جا که میان جنگ کے طفیل ہیں محمدتوں اور مردوں کہ ان حاصل ہوتا ہے۔ ناو بینه اسلام اس جو امر ولیست که خون دل روپئے دین مصطفی باشد۔ وہی جوانمرد دین اسلام کی پشت دنیاہ ہوتا ہے جس کا دل دین مصطفے کے لیے خون ہوتا ہے این بود که همه این نیک طینت را سر نیاز بدرگاه شال فرا باشد ایسی وجہ ہے کہ سب لاتی اور نیک فرانت لوں کا سرعاجزی سے ان لوگوں کی نگاہ پڑھکا رہتا ہے داغ و به بهران حرب نادانی ست کیکر کبر کند سخت ہے حیا باشد ان باور لوگوں کے مقابل کمتر اور بڑائی کرتا ہے و قوتی ہے جو کہ کرم ہے وہ سخت بے چہا ہے