دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 264

ن رات مندی ہے توان گفتن کلے سلامت روان و مقا باشد فقر کی باتیں پوری کرکے بھی بیان کی جاسکتی ہیںلیکن اس ماہ کے کمروں کی علامت صدق وصیت ہے ان سیاسی و شرح دہم کو شروطا ہرقد سے گریڈ کا باشد و راست کی مشکلات کی تفصیل میں کیا بیان کروں کہ ہر قدم کے لیے گریہ و زاری لازمی ہے بروز دا کار نوز دل صدق دوره بار بمیرد آنکه گریزنده از فنا با شد خدا کر اسے وہ بھیل جائے جو د دست کی راہ میں نہیں بھلنا خدا کر ہے وہ مرجائے جونا سے بھاگتا ہے کلاه فتح و ظفر بیچ کرنے یا بد مگر سریکہ نے حفظ دیں قد باشد کئی مات و خلف کا آج نہیں میں سکتا سوائے اس کے جودین کی حفاظت کے لیے قران مجو انائے سادی پہ پہنچ کس ندهند مگر کیاکہ نہ خود گئے خدا باشد کسی شخص کو آسمانی نشان نہیں تھے مگر کسی کو جو خدا کی خاطر فنا ہو جائے کے رسہ بمقام خلق را مجاز که در مقام مصافات و مصطفی باشد دہی شخص خوارق اور معجزوں کے درجہ پر پہنچتا ہے جو دوستی اور برگزیدگی کے مقام پر ہوں اہے جو ضرورت است که در دین میں اہم ایک عین حال و مدین ومرده سیا باشد۔۔۔۔ضرورت ہے کیوں میں ایسا ام آیا کرے جب خلقت حائل ہے دین اور موصل کی طرح ہو جائے جهانیان هم ممنون نقش باشند چرا که او نه مات المدنی باشد ابل جان سب اس کے زیر بار احسان ہوتے ہیں کیونکہ وہ مذہب اسلام کی بنیاہ ہوتا ہے ۲ اگر چه می شد دار دیگر به تفتح دلیل ہے در د هت تریک می باشد اگر چودہ تلوار نہیں رکھتاگر دلیل کی تمھار سے اس قوم کی منتیں الٹ دیتا ہے جو گمراہ ہو