دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 238
۲۳۸ از خردمندان مرا انکار نیست لیکن این ره ها لیکن این رده راه و سیل باید نیست مجھے داناؤں کی عقلمندی سے انکار نہیں ہے مگر یہ یار کے وصل کا راستہ انہیں تانه باشد عشق و سر داد جنوں جلوہ نماید نگار ہے چلوں جب تک عشق اور سودا اور جنون نہ ہو تب تک وہ بے مثال محبوب اپنا جلوہ نہیں دکھاتا چون همان است آل عون سے محروم ہر کے سائے گزیند لاجرم چونکہ وہ عزت والا محجوب پوشیدہ ہے تو شخص کوئی نہ کوئی راستہ اس سے ملنے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ال رہے کو عاقلال بگردیده اند این کلفت روئے متقی پوشیده اند لیکن معقل والوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے تو انہوں نے بے تکلف خدا کے چہرہ کو اور بھی چھپا دیا ہے۔ پرده ها بر پرده با افراخته مطلبی نزدیک دور انداخته پہلے پردوں پر اور پردے ڈال دیئے مقصد نزدیک تھا مگر اُسے اور مرور کر دیا ما که با دیدار او رو تا نیمی از رو عشق و فتایش با تیمی و یا نعیم ہم لوگ جنہوں نے اس کے دیدار سے اپنا چہرہ روشن کیا ہے ہم نے تو سے عشق اور زنا کے راستہ سے پایا ہے ترک خود کر د علم پسر آس خدا از فنائے ما پدید آمده بقا اس خدا کے لیے جب ہم نے اپنی خودی ترک کر دی تو ہماری تھا کے نتیجہ میں بقا ظاہر ہوگئی اندین ره دردسر بسیار نیست جان بخواهد دادنش دشوار نیست اس راستے میں زیادہ کلیف اٹھانی نہیں پڑتی وہ صرفت جان مانگتا ہے اور اس کا دنیا مشکل نہیں ہے۔ گرنه او خواندے مولانہ فضل وجود صد فضولی کر دے بے سود بود گروہ کو اپنے فضل وکرم سے مجھے پیر یا تنخواہ میں کتنی ہی کوششیں کرتا سب بے فائدہ انھیں