دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 197

۱۹۷ یوں ذکر فرشتگان بیاید گوشید خلاف معقل دا ناست جب فرشتوں کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ بات داناؤں کی سمجھ کے برخلاف ہے اسے سید سرگرد و این قوم انتشار کر پائے تو نزیر جاست ے شید ! تو جو اس قوم کا لیڈر رہے جبروا نہ ہو جا کہ تیرا قدم راہ راست پر نہیں ہے۔ پیرانه سرایی چه در سر افتاد رو تو به کن این نه راه تقویمی است مجھے بڑھاپے میں یہ کیا سو بھی ہے۔ ہوا اور توبہ کر۔ یہ تقوی کا طریقے نہیں ہے اسم که بادی قیاس یک روز کوئی کہ خدا خیال بیجاست مجھے ڈر ہے کہ ایسے ہی تھا سات سے تو ایک دن کہہ دے گا کہ خدا کا خیال بھی غلط ہے اسے خواجہ برو که مگر انسان در کار بند از نوع سود است ارے میاں ان باتوں کو چھوڑ کہ خدائی میں دخل دنیا جنون کی ایک قسم ہے ر و قیاس ها چه خیز و بنشیں کہ نہ جائے شور و غوره است ہتر پیاس سے کیا بنتا ہے ! صبر سے بیٹھ جا کہ یہ فضول باتوں کا مقام نہیں ہے اسے بندہ بصیرت از خدا خواه اسرایه خدانه شواین بیماست نے ہند سے خدا سے بصیرت طلب کر کیونکر خدائی اسرار گیٹ کا مال نہیں ہیں رہو پیرنی سمجھ میں آجائیں) زبركات الدوا متحد، المطبوعه ۶۱۸۹۳) روئے پر از طلبگاراں نمی دارد حجاب بیدار شده در تو رو سے نا بداند انتشار ماہر کا چہرہ طالبوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ سورج میں بھی سیکھتا ہے اور چاند میں نہیں