دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 196
199 و و میدان قرن کان الایت مرکز خود آورد او نیس و شرودر آورد وان و جولیتا ایک تورانیان مین اپنے پاس اس کا مطلب بیان کرتا ہے گندگی اور مرد پیش کر ہا ہے ہیں در كانت القران صلحو المطبوعه ۹۳ ۸ زامل لیے نیچے شوخ اینچ ایده است از دست تو فتنه بر طان خداست سے شروع پھر پی ایہ کیا کر ہے ہو تو دے رہا ہے ، تیرے ہاتھوں ہر طرف فتنے پر آن کس که رو کیت پسندید دیگر نکنید بجانب راست جس نے تیرے ٹیڑھے راستہ کو پسند کر لیا جس نے پھر سیدھا راستہ اختیار لیکن ہر زغور و فکر بینم از ماست مینے کہ برماست لیکن جب میں غور و فکر کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری یہ عصبیت ہماری بھی وجہ سے ہے۔متروک شدست درس فرمان نال روزه هجومی این بلاها است قرآنی کا پڑھنا پڑھانا لوگوں نے چھوڑ دیا۔اسی دن سے ان بلاؤں کا ہوا ہے نیجر نہ باصل خویش بد بود دیں گر شد و نور عقلها کاست گرشد کا ھر کی امیت کو بری نہ تھی لیکن دین کے گم ہونے سے عقلوں کا اور گھٹ گیا پر قطره نگوں شدند یکبار و تافته ترال طرف که دریاست یکردم لوگ قطرہ کی طرت ٹھک گئے اور اس جانب سے منہ پھیر کیا جدھر دریا تھا۔ت و حشر و نشر خندند کیس قصه بعد از خورده است لات اور حشر نشریر حشر نشریر ملتے ہیں کہ یہ کہانی عقل۔