دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 17

14 عاشق صدق و سداد و راستی دشمن کذب و فساد و ہر شہری وہ صدیق ۔ سچائی اور راستی کا عاشق ہے۔ اگر کذب۔ فساد اور شہر کا دشمن دھن ہے تواجود و سر عاجزه ال را بنده پادشاه و بیکیان را چا کرے وہ اگر چہ آتا ہے گر کمزوروں کا غلام ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ گھر بیکسوں کا چاکر ہے آن ترجمہا کہ خلق از دسے بدید کس ندیده در جیال از مادری کرختی از وہ مہربانیاں جو مخلوق نے اُس سے دیکھیں اُس سے دیکھیں روا کسی نے اپنی ماں میں بھی نہیں پائیں از شراب شوق باتاں بیخودی در سرش بر خاک نہادہ سرے وہ محبوب کے عشق کی کی شراب میں بخود ہے اُس کی محبت میں اُس نے اپنا سر خاک پر رکھا ہوا ہے روشنی از دے بہر تو سے رسید نور او رخشید بر هر کشوری ورس سے ہر قوم کو روشنی پہنچی ۔ اُس کا نور ہر ملک پر چکا یدہ ور ہے آیت رحمان برائے ہر بصیر حجت حق بهر بر دیده در وہ ہر صاحب بصیرت کے لئے آیت اللہ اور ہر اہل نظر کے لیے محبت کی ہے ها توانان را برحمت دستگیر خستہ جاناں راہ شفقت محور سے ہاتھ پکڑنے والا اور نا امیدوں کا شفقت کے ساتھ عمر خوی کمزوروں کا رحمت کے ساتھ ہاتھ حسن رویش به زماه و آفتاب خاک کویش پر رشک پیشبری اس کے چہرہ کا حس شمس و قمر سے زیادہ ہے اور اس کے کوچہ کی خاک مشک و عنبر سے بہتر ہے آفتاب و مه چه ماند بدو در دلش از توریقی صد نیری ا پایان فیس سے کہاں مشابہت رکھ سکتے ہیں اس کے دل میں تو خدائی نور سے وہ سورج روشن ہیں