دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 17

74 آن عاشق صدق ونداد و راحتی دشمن کذب و فساد و ہر شے وہ صدیق۔سچائی اور راستی کا عاشق ہے۔اگر کذب۔فساد اور شہر کا دشمن ہے تواجده و مرعاجزال را بنده پادشاه و یکیان را چاکرے وہ اگر چہ آتا ہے مگر کمزوروں کا غلام ہے۔وہ بادشاہ ہے گر سیکیسوں کا۔ں ترجمہا کہ خلق از وی بدید کس ندیده در جهال از مادری وہ مہربانیاں جو مخلوق نے اس سے دیکھیں۔وہ کسی نے اپنی ماں میں بھی نہیں پائیں ارد شراب شوق جاناں بیخود دور سرش بر خاک نہادہ سرے و محجوب کے عشق کی شراب ہیں بیخود ہے اس کی محبت میں ماس نے اپنا سر خاک پر رکھا ہوا ہے ی ان سے ہر اسے رسید گوبر اور رشید بر سر کشور وس سے ہر قوم کو روشنی پہنچی۔اس کا نور ہر ملک پر کہ ایم کا آیت رحمان برائے ہر بصیر حجت حق بہر ہر دیدہ ور سے وہ ہر صاحب بصیرت کے لئے آیت اللہ اور ہر اہل نظر کے لیے حجبت متی ہے ها توانان را برحمت دستگیر خستہ جاناں رانی شفقت منور ہے کمزوروں کا رحمت کے ساتھ ہاتھ پکڑنے والا اور نا امیدوں کا شفقت کے ساتھ غم میں ن رویش به زماه و آفتاب ناک کولیش به ریشک بیبر کے چہرہ کا حس شمس و قمر سے زیادہ ہے اور اس کے کوچہ کی خاک مشک و عنبر سے بہتر ہے آفتاب و هر چه ماند بدو در دلش از توری صد نیرے اس سے کہاں مشابہت رکھ سکتے ہیں اس کے دل میں تو خدائی خور سے وہ سورج روشن ہیں