دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 16
اور آخر زمان کرد نور او د دل مردم زور تاباں ترے احمد ہے آخر زماں کے قد سے لوگوں کے دل آفتاب سے زیادہ روشن ہو گئے ار یکی آدم نون تر در محال اور لالی پاک تر در گوهری ہ تمام بنی آدم سے بڑھ کر صاحب جمال ہے اور آب و تاب میں موتیوں سے بھی زیاد من یر عیش جاری زحکمت چشمہ اور واش پر از معارف کو تہ ہے اس کے منہ سے حکمت کا چشمہ جاری ہے اور اُس کے دل میں معارف سے پر ایک کوٹہ ہے ریتی داماں نے بغیرش بر فشاندا نانی او نیست در بحره بری خدا کے لیے میں نے ہر و جووت اپنا دامن جھاڑ دیا بحرو ، میں اس کا کوئی ثانی نفیس پر ایل جهانش داد می کشی تا ابد نے خطر نے غم زیاد سر میرے تھی نے اس کو ایسا چراغ دیا ہے گو تا اید ایسے ہوائے تند سے کوئی خوف و خطر تھیں پہلوان حضرت رب جلیل | بر میاں بستہ نہ شوکت خنجر وہ خدائے جلیل کی درگاہ کا پہلوان ہے اور اس نے بڑی شان سے کر میں منیجر باندھ رکھا ہے نیر او تیزی بر میدان نمود تیغ او ہر جا نمودہ جو ھرے اس کے پیر نے ہر میدان میں تیزی دکھاتی ہے اور اُس کی تعمار نے ہر جگہ اپنا جو ہر ظاہر کیا ہے ا کرد ثابت بر جہاں ججز میاں اما نموده نور آن یک تا دے اس نے دنیا پر قبوں کا مجھ ثابت کردیا اور خدائے واحد کی طاقت کھول کر دکھا دی است شاه شد