دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 185

Ind یوان شیر خود آب درختان محبت را مگر وے ہندی ہو جائے پر حلاوت را صیبت کے درختوں کو اپنی محکمہ درختوں کی اپنی اکلموں کے پانی سے سیراب کرنا کہ ایک دن وہ مجھے شیریں پھل دینا مر را سلام در امر حقیقت با با همی دارد کجا با شهر خرزان مه گرفتاران صورت را را اسلام کا جان اپنے اندر بہت سی مشخص رکھتا ہے۔ ظاہر بینوں کو اس چاند کی خواہوں کی کیا خبر ہوسکتی ہے۔ من ازبار آرم ها متن این ماه بنمایم گر امر فرم نے بینی بینی روز حسرت را یکی کی بار کی راہ آیا ہوں کے حلق کو یہ چاند کھاؤں اگر آج تو مجھے نہیں دیکھے گا تو ایک روز حسرت کا دن دیکھے گا ا د شتم و نه است شاخه وم مزن بارے کہ بد پر سر یار نے پندرہ سے صحت را گیری نشان تیری آنکھوں سے پوشیدہ ہے تو بھی خاموش ره که با پالیز بیمار تندرستی کا من نہیں دیکھتا چشم می شناس اور عرفات بخشیدی نهادی نام کا فرا جرم مشتاق مجھے موت کی آنکھ اور نور عرقان ہیں دیا گیا اس لیے تونے عاشقانہ اسلام کا نام کافر کیا ہے کا ارد استان ملتے اسے ایل بگیریم تے ایہ مر جائے مگراین با دولت را ے ہو تو ہم درگاہ مصطفوی سے کہاں بھاگ کر جائیں کیونکہ ہم کس اور دیگر یہ عزت اور دولت نہیں پا سکتے بعد اند که خود لیا تعلق کرو اس قومے خدا از حمت احسان منیر کو خلوت را لم امہ کہ اس تم نے خود ہی مجھ سے قلع عمل کرلیا اور رضائے مہربانی اور کرم سے خلوت میسر کر دی شور ها که میدیدم پدیداری کرد و با ناز و بر د خود بر خود را ر که اگر که از بازم مرداد داد داد جنت را ن چوں کے کھنے سے ہی کی تو کی ہاتھ تھے اپنے ابر پیار ہے اس نے مجھے جنت عطاکی یندی را که بالا میدارم کردند بیست در دست بگردان ای قسمت دلیہ تواس قرب کی ہے وہ جسے دادا سے مال ہے کیوں جاتا ہے اگرتیرے حق میں زور ہے تم سے من کی کور د کور سے