دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 167

مردم ملک شادت صدام ہے دہر نیم کدام هم که می گشت متشکرم آسمان سر وقت میری چائی کی گواہی دیتا ہے پھر مجھے اس بات کیا کیا تم کہ اہل زمین مجھے نہیں مانتے الله و کشتی نوحم نه کردگار ہے دولت آنکه دور بماند زلنگرم بجھا میں اپنے پروردگار کی طرف سے نوح کی کشتی کی مانند ہوں قیمت ہے وہ جومیرے لنگر سے دور درست است میں آنے کو ان آخر زمان سوخت از بر پایه اش بخدا شهر کو نرم یہ رگ میں نے اس آخری زیاد کا دامن جلا دیا ہے ۔ خدا کی قسم میں اس کے علاج کے لیے شہر کوثر ہوں من نیستم رسول و نیاورده اهم کتاب مان مهم استخم و رخداد مده مندم میں رسول نہیں ہوں اور کتاب نہیں لایا ہوں۔ ہاں علم ہوں اور خدا کی طرف سے ڈرانے والا یا رب بزاریم نظریے کن بلطف و فصل جز دست دمیت تو دگر هست یا ورم اے میرے پے میری گریہ وزاری کو کچھ کریا کرم کی ایک نظر ک کر تیری رحمت کے لیے کے سوا اور کون میرا شکار ہے۔ جانم فدا شود بره دین مصطفی این است کام دل اگر آید میرم میری ایمان مصطفے کے دین کی راہ میں خدا ہو یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش بیشتر آجائے ران ال اور اہم حصہ اول صفحه ۱۲۵ تا ۱۷۸ مطبوعہ ۱ ۶۱۸۹ اسے خدا جانم پر اسرارت قدا دنیاں رائے دہی قهر و کار و شما میری جان تیرے بھیدوں پر قربان کر تو ان پڑھوں کو نہم اور 5 میں ریا بخشی ہے۔ در جهانت همچو من اتی کجاست در جهالت بها مرا نشود نماست تیری اس دنیا میں میرے جیسا امی کہاں ہے میرا تو نشود نماہی جہالتوں کے درمیان ہوا ہے