دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 165
۱۶۵ ے مرتی این گرد و میزان مرا میدی ته به میدم که این خاک بلندم انہیں عزیزوں نے مجھے پہچانا یہ مجھے اس وقت جائیں گے جب ہمیں اس دنیا سے گزر جاؤں گا گرون شد است ا یم اور نشانی این است آن درکا ر رو هم دی سرم ران اور ایم کیوجہ سے والا خون ہوگیاہے تو کیا ہو میری افزایش یہ ہے کہ یہ جو ہیں میر اس کی قربان ہو جاتی بھی ری برایم می آید نه در دو قومی یارب بنات تونل ایل روز پر شرم رات قوم کے ایسے مجھ پر برای مواد کہتے ہیں اسے اب مجھے اس شور و شر کے زبان سے بات ہے۔ یا رب تیم مرور ان کسی زنان بیشه کامروز تر شده است۔ ازین در این نرم کو اسے پورے بجھ کے پہنی سے ان کی پستی دھوڈال کے اس غم کے ارے آ یا پست تک رہ گیا دریاب جو کہ آپ نو پر تو یتیم دریاب چونکہ جز تو تا نه است دیگرم میری داد کو کھ کر میں نے تیرے لیے آنسو بہائے ہیں میری فریاد شن کیو مگر تیرے سوا نیمار کوئی نہیں رہا تاریکی عموم بآخر تھے نے رسد این شب مرا تمام شود روز محترم عمول کی تاپ کی ختم ہونے میں نہیں آتی۔ یہ اندھیری رات تو شاید نو شاید حشر تک لمبی چلی جائے گی ل ای است از جبران ترم تانتان و امان کی که گرفته چنبری اس نام درمان قوم کے غم سے میرا دل خونی ہوگیا۔ نیز مرا حالوں کی وجہ سے جومیرے پیچھے پڑھتے ہیں رای خشک کردی باطی نوری نے سر عالم وفقیہ شد سے بھی چاکرم اگر شک عام اور دل کی بینائی حائل نہ ہوتی کہ ہر عالم اور فقیہ میرے آگے غلاموں کی طرح ہوتا۔ بر سنگ سے کند اثر این منطقم مگر بے ہوائیں کہ ماں نے کلام مؤثر میری یہ باتیں تھر تک پر اثر کرتی ہیں گر یہ لوگ میرے کا تاثیر کلام سے بے عیب ہے