دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 139

1 تو نوی نان پائے تو بیچوں میں بخلص ابن ناقص ہیں قصاص نا تو تو آپ عورت ہے اورمیری رائے بھی اورتوں جیسی ہے تو باقی تیرا باپ تھر تہران در اسب ناقص خوب گریز و نوشت است و نباه پس در خوانم نام تو اسے روسیاه اگر عین تیر سے نزدیک بعد صورت اور تخاب حال ہے تو اسے دویا تامیں تیرا کیا نام رکھوں کوریت سپرده با بر تو گند دین تعصب ہائے زینت کنند تیری ناجیانی نے تجھ پر سیٹوں پر سے ٹال رکھتے ہیں اور تیرے تعصبوں نے تیری جوڑا کھیڑ دی ہے اسے بیس محجوب آن رت جبیل پیش از کوری حقیر است و دلیل ادات و الجلال کے بہت سے محو تیری ایشیائی کی وج سے تیرے نزدیک ذلیل و سفیر ہیں اسے لینکس خوردہ صدر با معنا پیش این حشمت پر از حرص و ہوا یسے بہت لوگ ہیں جنوں نے فن کے سیکریوں جام ہے میں تری آنکھوں کو نہیں اور امی نظر آتے ہیں گر نماند سے از دیود تو نشاں ایک جوڑتے ہیں حیات ہوں گاں اگر تیری ہستی کا نام و نشان مٹ جاتا تو اس کنوں والی زندگی سے اچھا ہوتا داغ گر ناپنے کجایت پورت لینک دارد از نمرات به گوهرت گران تیری ماں اگر تیری بجائے کو جنتی تو تیری یہ گو ہر فطرت کی نسبت اچھا تھا دا کر کذب فسق و گفت در سراست این نجاست محوریت نهی بهتر است کو جو اس دور کا تیرے وار میں ہے وہ تیری سے نجاست فوری اس کی بہت زیادہ میں ہے تو لہا کی اے شقی سردی ناکه از جان جمال سرش شدی بد نتی از لی تو پلاک شدہ ہے۔کیونکہ تو اُس جان جہان سے سرکش ہو گیا ہے