دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 138

منطق آئینہ روئے خداست منکر دیئے یہاں تو نے خدا است مصطفے تو خدا کے چرہ کا آئینہ ہیں۔ان میں خدا تعالی کی ہی تمام صفات منعکس ہیں گرید دشتی خدا او را ببین من دفینه های المحی این تیم دارانی گر تونے خدا کو نہیں دیکھاتھ نہیں دیکھ یہ حدیث یقینی ہے تو میں نے مجھے دیکھا اس نے متن کو رکھا۔آنکه آویز و به مستان خدا خصیم او گردد جناب کبیریان جو شخص خدا کے عاشقوں سے ایکھنا ہے تو جناب الہی خود اس کے تین ہو جاتے ہیں دوست بنی تائید این مستان گھر چل کے بادست تقی دستان کند خدا کا ہاتھ ان عاشقوں کی مدد کرتا ہے جب کوئی ان کے ساتھ کر دو قریب کرتا منزل شال بز نر از صد آسمال ہیں تہاں اندر نهال اندر نساں ان کا مقام سینکڑوں آسمانوں سے بھی بلند ہے اور وہ تو مخفی در مخفی در مخفی ہیں یا فشرده در وقائے دلبری از سرش بر خاک افتاده سری نے دلبر کی وادی میں پاؤں توڑ کر بھی گئےہیں اوراس کے عشق میں پن کا سر ناک ہے اچھا ہے هان خود را سوخته بهر نگار زنده گشته بعد مرگ صد بزار اس تار کی خاطر ہوں نے اپنی جان کو جلادیا اور لاکھوں منوں کے بعد زندہ ہوتے ہیں صاحب چشم اند آنجا بے تمیز چشمہ کوران خود باشد هیچ چیز پیش ن سے بھی بند اور و اسی جگہ تو اہل نظر کو بھی تیز نہیں ہیں۔آنکھ کے اندھوں کی دوہاں بھلا کیا۔نے شال آں آتا ہے کا مدال چشم مردوں خیمو ہم چون شمیران ان کا چہرہ ایساسورج ہے کہ اس کی روشنی میں مردوں کی آنکھیں بھی چنگا ڈر کی طرح تیرہ ہو جاتی ہیں