دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 140
اسے دور کار وشکه از شاہ دیں خلادان و چاکر تنش را بیش اسے دوہ کرہ تو دین کے بادشاہ سے انکار و تک نہیں ہے جس کے خادموں اور تو کردوں کو ہی دیکھ کسی ندیده از بندگانت نشان نیست در دست تو بیش از دانستان کسی نے بھی کوئی نشان تیرے بزرگوں سے نہیں دیکھا تیرے ہاتھ میں کہانیوں سے زیادہ اور کچھ نہیں ایک گر خواهی بیا بنگر بر ما صد نشان صدق گرخواهی صدتان صدق شان۔لیکن اگر تو چاہے تو آ۔ہم تھے مصطفے کی شان صداقت کے سیکریوں نشان دکھا دیں گے ہاں بیا اسے دیدہ لبسته از حسد تا شعاعش پرده تو بر دروا اسے رہا میں نے حسد کے بارے بنکھیں بن کر لی میں ہوا کہ اس کی روشنی تیر سے بھالوں کو بھانڈا سے صادقال را فور حتی تا ابد عوام کا زیاں مردند و شد تر کی تمام میچوں کیلئے تویہ حق ہمیشہ چھتا رہتا ہے جھوٹے مرگئے اور ان کی ترکی تمام ہوئی مصطفی مهر درخشان خدا است بر عدوش لعنت ارض بیماست مصطفے خدا تعالیٰ کا چمکتا ہوا آفتاب ہے اس کے نشیمن پر زمین و آسمان کی لعنت ہے۔خدا ہوا پر کی لعنت این نشان لعنت آملک میں خساں اندہ اندر ظلمتے چوں بشیراں ! لسنت کا یہی تو نشان ہے کہ یہ ذلیل لوگ چمگادڑوں کی طرح اندھیرے میں پڑتے ہیں۔نے دل صافی نہ غفلے راہ میں راندہ درگاہ رب العالمین ! تو ان کھول پاک ہے توان کی عقل راستہ دیکھنے والی ہے وہ رب العالمین کی درگاہ سے مردوں میں دل جمال کنی صدکن بکن مصطفی رو نه مبینی به بدین مع صلے کی یونین میں سکوں اور میں تیری نیت باکی کے نہ جانے پر ہی سلسلے کے دین کے ساری امت ہے