دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 317
۳۱۷ ستم از گل بی خیالے ناقد نال جام سے ایک سفالے تمام یرے اتہ میں سوائے ان کے خیال کچھ بھی دیا اور اس جام شراب کی ایک ٹھیکری بھی باقی نہ رہی وترین و ہیں گوشہ ہوں یا د باران کنیم در دیده چو ابر بہاراں کنیم درو ان تنہائی میں ہم دوستوںکو یاد کرتے ہیں دونوں کھول کر اور بہار کی طرح بنا دیتے ہیں دول خود بد نیا چہ بند کیے کہ ایام الفت ندارد ہے کوئی اس دنیا سے اپنا دل کیا لگائے کہ محبت کے دن زیادہ باقی نہیں رہا کر۔چه فرقی است و روز و شب جنز که بار تند خاک بر فرق این روزگار یار کے بغیر دن اور رات میں فرق ہی کیا ہے ؟ اس زمانہ کے سر پر خاک پڑے دور دست دعا پیش حق گسترم که چرت نماید بفضل و کرم دعا میں اپنے دونوں ہاتھ خدا کے حضور میں پھیلاتا ہوں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے تیرا چہرہ دکھائے مکتوب گه گه بکن شاد کام خط و نامه با ما چه اشد حرام کبھی کبھی خط لکھ کر ہمیں خوش وقت کر دیا کہ تو نے ہمیں خود بھیجنا کیوں ترک کردیا دگر آنچہ تحریر کرد اس رفیق کریم گستر و مهربان و شفیق یر آن کرم - کریم فرا - مہربان اور شفیق نے آئی لکھا ہے کہ ان بحث میں نال نکردیم بیاد که نوبت طلال تو در دل نقاد ہم نے اس لیے اس خط میں دین کی جیت کا ذکر ہی کیا کہ ہمارے دل میں ناراضگی پیدا نہ ہو تو واضح (1) من من نیستم کز رده بعض دیس برنجم ن تحر یک در بحث دیں ر میں ایسا انسان نہیں ہوں کہ دشمنی اور کیسوں کی کی وجہ سے دینی مباحث کی تحریک سے ناراضی ہو جاؤں