دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 316
سخن گرچه باشد چولولو نے تبر گذاریدنش نیز خواهد بنر بیات اگر چہ گوہر آبدار کی طرح ہو۔مگر اس کے پیش کرنے کو بھی ہنر چاہیئے سخن قامتے نیست با اعتدال فصاحت و غدد بناگوش و خال پوند سلام کی مثال ایک خوبصورت تند کی سی ہے بعد اس کی فصاحت رخسانہ نوک اور تیل کی طرح ہے۔و گفتار باشد بلنچ داتم اثر با کندور دے لاجرم اسلام بلیغ اور اعلیٰ ہوتا ہے۔تو ضرور دل اثر کرتا دیگر منطقه عمل است و خراب چه خواب پریشان ردود بے حساب لیکن اگر گفتگو ہے معنی اور خاب ہو تو وہ خواب پریشاں کی طرح رائگاں جاتی ہے نبال گرچہ پھر سے بود مو بدون طلاقت نگیرد مجود علم وفن زبان اگر چھ طوفانی سمندر کی طرح ہو۔پھر بھی نصاحت بغیر علم و فضل کے نہیں آتی کے کو ندارد و قو نے تمام چطورش میافت بود در کلام بود در جو شخصی زبان کی پوری واقعیت نہیں رکھتا۔اس کے کلام میں روائی کیونکر سکتی ہے بحمداللہ کان مشفق پر سداد دریں جملہ اوصاف یکتا نقاد خدا کا شکر ہے کہ آپ بیس مخلص شقیق ان سب صفات میں کہتا ہے لعجب فوق مے داشت آن روزانند که بودیم در خدمت ارجمند وہ دن نہایت پر لطف تھے۔جب ہم آپ کی با برکت خدمت میں حاضر کجا شد ودریغ اس زمان و سال کجا شد چنان فریم آن ماه سال افسوس۔وہ ملاقات کا زمانہ کہاں گیا اور وہ مبارک مہینہ اور سال کدھر چلا گیا۔2