دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 314
۳۱۴ رکے اندک نیک تر و بودے اگر چول محمد بشر محمد دن رشتے سے کیوں کر پائے جاتا اگر مر سا بشر پیدا : ان است نورانی و سردی بتا بد در و فره ایزدی اید اس کا دل نورانی اور ازلی ہے اور اس میں خدا کی عظمت اور شان چکتی کے کش بلور معلق رہنما سر بخت او باشد اندر سما دہ شخص میں کا رہنا مصطفے ہو اس کا نصیبہ بندی میں آسمان تک پہنچتا ہے ه از یاد اور است جانی و دلم جواب اندر اندیشه هم به المدر میرے جان دول اس کی یاد سے معمور ہیں خواب میں بھی مجھے کوئی دوسرا خیال نہیں ہوتا یں سے تھا۔پس ان سے سلام تا ئے شفیق کوم گستر و ہم رہ و بہم طریق اس کے بعد اسے مردان اور شفیق اور ہم خیال دوست میں مجھے سلام کہتا ہوں که یا دوین خسته که دی نہ ڈور فرستادہ نامہ ہمچو خور کیونکہ تونے ہیں ماجد کو اتنی دور سے یاد کیا اور ایک خط جو حور کی طرح شیعین ہے مجھے بھیجا چنان منظر عرش که مانند آن ندیدم بهم خود امد جہاں بهمبر اس کی نظیر اور مخر ایسی تھی کہ اس جیسی میں نے کبھی دنیا میں نہیں ایکمینی مطار استان اور آل پیش پیش کے حاسد به عید د راک سوئے نویش ہر اس میں ایسی اعلی درجہ کی صفائی ہے کہ دشمن اس میں اپنا منہ دیکھ سکتا۔عمور ہی گرا گوش زاں صفا کشتے ہیں زانوئے اقط کی اخت اگر تلونکی شاعر اس صفائی سے واقف ہو جاتا تو وہ منہ چھپا کر بیٹھ جاتا