دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 315

۳۱۵ رہے ن صفوت بند و بست که عقد گر را در صد شکست آپ کی ال میں ایسی چمک اور ایسی ترتیب ہے کہ وہ موتیوں کے ہار کو بھی بات کرتی ہیں۔تو گفتی سریر ہے اس اخوت اساس موضوع زیاقوت در جان و ما اس گویا وہ ایک ایسا چیدہ اور منتخب تخت ہے جو یا توت ، مرجان اور الماس سے جڑا ہوا ہے د ہے تو اس بود خم سداد ہمہ منطقی صرف آن تو باد واہ وہ اس کی نحر کیسی اصلے کو ہے کہ میری ساری گوریا کی اس تھر پر قربان ہے۔سخن را انزال گونه آمد استند نمی آید از پیرو نوخاسته لام کو اس طرح آراستہ کیا گیا ہے کہ اور کوئی تھیں کر سکتا خواہ بوڑھا ہو یا جمالی سخن کو نمو دست در هدان به معنی رسانید لفظ سخن کلام سے گیا ایک دتو مدن ظاہر ہو گیا جس نے الفاظ کو معانی تک پہنچا دیا سخن نام دریافت شمال نا مردہ ہے بھنگی جائے اس خامہ سے سخن نے نام پایا واہ دار اور اُس اور اس تحریہ کی پختگی کے کیا کہتے سخن آن چنان باید د استوار چه حاصل سخن گفتن نابکار بات ایسی ہی حمدہ اور پختہ ہونی چاہیے۔بے سود باتیں کرنے کا کیا فائدہ ؟ موشی به از گفتن این میں تو لیما در جنباند از آفرین اس خط سے خط ایسی فضول باتوں سے تو چپ رہنا اچھا ہے جو لوگوں کے منہ سے تعریف حاصل نہیں کرسکتیں ی معدنی در وسیم و الا است اگر نیک دانی نہیں کیمی است کیمیاست کلام کو موتی چاندی اور سونے کی کان ہے اگر تو اس بات کو خوب سمجھ سے قریبی کیمیا ہے