دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 313

۳۱۳ کر میں میت خوبی بینی زودتر خار ہائے دشت سنائی وطن کا لیے۔یں امریکی محبت میں رہے گا تو جلدی جنگل کے کانوں تنہائی اور دنیا کے طعنوں کو دیکھ لے گا (مکتوبات احمدیہ حققه اول صفحه ۷۵ ) الها في شعر ان در رامید عالم سے راجہ منانے کی خودم رساند ید دارد سے باہر ہیں یا کارانہ زہد وات کے طارق کو نہیں جانتا کیونکہ میرے خدا نے میرا قدم داؤد کے راستے پری کتوبات احمدیہ حصہ اول صفحه ۱) پاس می داند کیتا نے را رو بہ عالم آسرائے را یم بے مثل خداوند کا شکر ہے جس نے دنیا کو چاند اور سورج سے آراستہ کیا بهر لحظ امیدیاری از دوست پیر مانتے دو سنداری (دوست) مہیں ہر وقت اس کی طرف سے مدد کی امید ہے اور ہر حالت میں اسی سے محبت کا تعلق ہے جہاں جملہ یکم نعمت آباد اوست خنک نیک بختی که دریا دادوست سارا جہاں ایک کاریگری کا منظر ہے خوش قسمت ہے وہ نیک بخت جو اس کی یاد میں رہتا ہے۔سول خدا پر توانا اور دوست ہم خیبر باز پر منقد و یا دوست رسول اللہ اُس کے نور کا پر تو ہیں اور ہماری سیار کی بھلائیاں انہیں کے ساتھ وابستہ ہیں جمال مورد ویتند و گور جان محمد کز دویست نفق جہاں وہی طرفانہ شہید اور جان کا نور محمد ہے حسین کی وجہ سے جہان کی تخلیق ہوئی