دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 197
144 ہوں ذکر فرشتگان بیاید گونید خلاف عقل ما ناست فرشتوں کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ بات داناؤں کی سمجھ کے برخلاف ہے اسے سید سرگرد و این قوم اشارہ کر پائے تو نہ پر جاست اسے نیند ! تو جو اس قوم کا لیڈر ہے خبردار ہو جا کہ تیرا قدیم راہ راست پر نہیں ہے پیرانه سرای چه در سر افتاد رو تو به کن این نه راه نفوسیلی است تجھے بڑھاپے میں یہ کیا سوجھی ہے۔اور توبہ کر۔یہ تقویٰ کا طریقہ نہیں ہے از سهم که بدین قیاس یک روز کوئی کہ خدا خیال بیجار مجھے ڈر ہے کہ ایسے ہی تھا سات سے تو ایک دن کہنہ دے گا کہ خدا کا خیال بھی غلط۔اسے خواجہ برو که فکر انسان اور کارمند از نوع سو داره درسے میاں ان باتوں کو چھوڑ کہ خدائی میں دخل دنیا جنون کی ایک قسم ہے اتر و قیاس یا چه نیز د نشیں کر نہ جائے شور و خو خاست اتر قیاس سے کیا بنتا ہے ! (صبر سے بیٹھ جا کہ یہ فضول باتوں کا مقام نہیں ہے سے بندہ بصیرت از خدا نواره اسرا به خدا انه خوان بیمار ائے ہند سے خدا سے بصیرت طلب گریگو کر خدائی اسرار ایٹا کامال نہیں میں ریویو نی سمجھ میں آجائیں) زبركات الدما مشور، امطبوع ۹۳ مداوم روئے پیرا لینگالاں نمی دارد حجاب میشه در دروس ا ا ا ا ا ا بابا الر کا چہرہ طالبوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔وہ سورج میں بھی چکھتا ہے اور چاند میں نہیں - i