درثمین فارسی کے محاسن — Page 36
۳۶ بسیارم بتضمین سه بیست متین که نزد خرد به از در تمین ه : (صفحه صح صط) مولانا موصوف حمد باری تعالٰی کا حق یوں ادا فرماتے ہیں : سے اسے جہان دیده بود خویش از تو به پیچ بودی بنوده پیش از تو در بدایت بدایت همه چیز : در نهایت نهایت همه چیز اسے بر آرنده سپر بلند : پنجم افروز و انجمن پیوند آفریننده خزائن بود به مبدع و آفریدگار وجود سازمند انه تو گشته کار همہ : اسے ہمہ و آفریدگار ہمہ هستی و نیست مثل و مانندت : عاملان جز چنیں ندانندت روشنی پیش اہلِ بینائی : نه بصورت بصورت آرائی بحیات ست زنده موجودات زنده بلک اند وجود تست حیات ہے خاتم الشعراء خواجہ حافظ شیرازی نے بھی نظامی کے اشعار کے اسلوب کو ایک بڑی حد تک اپنایا اور وہ اس کے بلند مقام اور قابل قدر فکر و تدبر کا بہت گرویدہ تھا۔چنانچہ نظمی کی تعریف میں کہتا ہے کہ نظام کی ایک نظم ہے کہ اس جیسا و مامایی یا ای تی وی پی ان میں اس کرتاہوں کو حق کے نزدیک اس جیسے ہی ہوتا کہیں نہیں۔ے :۔اے وہ ذات جبس اس جہان نے اپنا وجود پایا کوئی وجود تجھ سے پہلے موجود نہیں تھا ارے ہی ابتدا میں ہر چیز کی ابتدا اور انہیں ہرچیز کی انتہا رہی ہے اسے اس بلند امان کو قائم کرنیوالے بستروں کو روشن کر نیوالے اور ان کی محفل سجانیوالے بخششوں کے خزانے پیدا کرنیوالے اور وجود کے موجد در خالق ، سیٹ کام تھی سے بنا ہے۔اسے جو سب کچھ خود ہی ہے اور سب خالق ہے۔میر توہی جو ہے تیری اوران کوئی نیں عقیل کی اسی مادر کی عوام میں نکھوں لو کے کے تیر ہیں انکا بے یاری امور کے تھی سے نہیں بلکہ موت بنانے کے ذریعہ سے بیٹے جو ان کی زندگی حیات ہے اور خود حیات تیری ہستی سے زندہ ہے یہ