درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 35 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 35

بے شک ایک حد تک یہ حمد مؤثر اور دلنشین ہے۔لیکن اس کے الفاظ میں وہ سلامت اور روانی نہیں۔اور معانی میں وہ جوش نہیں جو حضرت اقدس کی بیان فرمودہ حمد میں پائے جاتے ہیں شعر نمبر یہ میں سکوں کا لفظ حشو ہے کیونکہ اس کے بغیر مفہوم پورا ہو جاتا ہے۔خصوصا اس لئے بھی کہ کسی دوسرے عنصر کے ساتھ کوئی صفت نہیں لائی گئی۔اسی طرح شعر نمبر میں لفظ ملک حشو ہے۔کیونکہ فرشتوں کا مفہوم لفظ عرش میں شامل ہے جس طرح اہل زمین کا مفہوم فرش میں شامل ہے۔لہذا بہتر ہوتا کہ عرش و فرش میں سے کسی کے ساکنین کا ذکر نہ کیا جاتا۔یا توازن کیلئے دونوں کے ساکنین کا ذکرہ ہوتا۔اسی طرح آخری شعر میں یا حرف محرم دید چاہیے یا صرف محرم نام محرم دید نام کہنے سے شعر کے مفہوم میں کوئی خوبی پیدا نہیں ہوئی بلکہ ابہام پیدا ہو گیا۔۔۔اس کے مقابلہ میں حضرت اقدس کے کلام میں لفظی اور معنوی دونوں قسم کی خوبیاں موجود ہیں۔اور کہیں کوئی سقم نہیں معنی ستاروں کی طرح چپکتے ہیں جن سے ایک معمولی سمجھ بوجھ والا شخص بھی حظ اٹھا سکتا ہے اور ایک فاضل اجل بھی۔اب ایک اور بتی استاذ مولانا نظامی گنجوی کی اسی سحرمیں حمد الہی کانمونہ ملاحظہ فرمائیے : سب سے پہلے انہی نے پانچ مختلف بحروں میں پانچ مثنویاں لکھیں جس کی تقلید آج تک تمام بڑے بڑے شعراء کرتے آئے ہیں۔شعر الحج حصہ اول منت) بہت سے بلند پایہ شعراء نے نظامی کے کمال فن کے آگے سرتسلیم خم کیا ہے چنانچہ دیباچہ گنجینه گنجوی میں لکھا ہے۔کہ " خاتم الشعراء خواجه حافظ شیرازی نیز در اشعار نظامی تبع بسیار و بمقام بلند و فکر ارجمند وی اعتقاد کامل داشته - چنانکه در ستایش نظامی و خطاب بممدوح فرماید ے ز نظم نظامی که چرخ کہن : ندارد چو او پیچ زیبا سخن