درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 37 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 37

۳۷ اسے جہاں رانہ پیچ سازنده : ہم نوابخش و ہم نوازنده نام تو کا بتدائے ہر نام است به اوّل آغاز و آخر انجام است (هفت پیکر) مولانا نظامی کی تینی عظمت اور برائی شعرا کے تذکروں میں بھی ہے۔الفاظ کے لحاظ سے وہ سب تسلیم لیکن ان کے بیان میں نہ وہ بے ساختگی ہے اور نہ وہ گہرائی ہے۔جو حضرت اقدس کے کلام میں پائی جاتی ہے کیونکہ جو کام تائید ایزدی سے منصہ شہود پر جلوہ افروز ہے ، اس کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔حضرت اقدس کے کلام میں تصنع کہیں نام کو بھی نہیں لیکن مولانا کے کلام میں صاف دکھائی دیتا سے مثلاً: دیکھئے ہدایت ہدایت ، نہایت نہایت ، اول آغازه ، آخر انجام وغیرہ۔کلام کو خوبصورت بنانے کی کوشش میں معانی غائب ہو گئے۔چنانچہ ان دنش شعروں میں ذات باری تعالیٰ کی دو چار صفات سے زیادہ دکھائی نہیں دیتیں۔مگر حضرت اقدس کے اتنے ہی اشعار میں بیسیوں صفات کا ذکر ہے۔الفاظ کے گورکھ دھندوں نے بعض شعروں میں بہت ہی ناپسندیدہ ابہام پیدا کر دیا ہے۔مثلا، آٹھویں شعر کا پہلا مصرع دیکھئے۔بحیات ست زندہ موجودات۔بھلا حیات سے زندہ ہونا کیا بات بنی ؟ کیا زندہ چیزوں کی صفت کے علاوہ بھی زندگی کا ہمیں کوئی وجود ہے ؟ جس سے چیزیں زندہ ہوتی ہیں۔اس طرح عرض کو جو ہر قرار دینے سے کلام قابل فہم نہیں رہتا۔اور بقول موان محمد مین آز آو باریکی سے تاریکی میں گر کر کبھی غور طلب اور کبھی بے تکلف ہو جاتا ہے۔(دیکھئے صہ ہذا )۔اسی طرح اس شعر کا دوسرا مصرع یجئے " زنده بلک از وجود تست حیات“ کسی خاص حالت یں کسی چیز کو زندہ قرار دینے کا کچھ مفہوم بھی پیدا ہوسکتا ہے۔جب اس چیز کے مردہ ہونے کا ے۔اسے وہ جو جہاں کو عدم سے پیدا کرتا ہے۔تو توا (ساز و سامان بھی دیتا ہے اور دوسر سے طریقوں سے بھی) نوازتا ہے۔تیرا نام جو کام کی ابتداء ہے۔آغاز کا اول بھی وہی ہے۔انجام کا آخر بھی وہی ہے :