درثمین فارسی کے محاسن — Page 276
- مولانا روم کسی چیز کے خود اپنی دلیل آپ ہونے کے تخیل کو آفتاب کے متعلق لائے تھے یعنی عشق کی صحیح کیفیت عاشق ہونے پر ہی محسوس کی جا سکتی ہے۔اور فرمایا تھا: آفتاب آمد دلیل آفتاب گرد لیلت باید از سه رخ تابی حضرت اقدس نے اس تخیل کا رخ اپنے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر لیا۔ر صرفه عن وجه إلى وجه آخر - ابن رشیق ملتا ہذا ) اور فرمایا : سے اگر خواہی دیلے عاشقش باش به محمد است بریان محمدت ور ثمین طلا) ۲۳۔اسی طرح شیخ سعدی نے بوستان میں عاشقان حقیقی کے حالات کے پوشیدہ ہونے کے متعلق چشمہ حیواں کی مثال دی تھی اور فرمایا تھا کہ : ہے بسر وقت نشان خلق کے ره برند به که چون آب حیواں تعلیمت در اند که حضرت اقدس نے انہیں ذات باری تعالیٰ میں گم قرار دے کر اس مفہوم کو حقیقت سے زیادہ قریب کر دیا۔فرمایا : کس بسر وقت شان ندارد راه کہ نہاں اند در قباب الله له ۲۴ - فردوسی نے شاہنامہ میں کہا تھا : سے ور ثمین صد) ترجمہ : سورج اپنی دلیل آپ ہے، اگر مجھے اس کا ثبوت چاہیئے تو اس کی طرف سے اپنا رخ نہ پھیر۔کے ترجمہ : اگر تجھے کسی ثبوت کی خواہش ہو تو اس پر عاشق ہو جا، محمد خود اپنی دلیل آپ ہی ہے۔ترجمہ : ان کے احوال کا کھوج مخلوق نہیں لگا سکتی ، وہ آب حیات کے چشمہ کی طرح پردہ ظلمات میں ہیں۔کے ترجمہ : کوئی ان کے حالات سے واقف نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ الہ تعالیٰ کے گنبدوں (پردوں) میں ہیں۔