درثمین فارسی کے محاسن — Page 277
بگوشیم و فرجام کار آن بود که فرمان و رائے جہانیان بوو حضرت اقدس نے اسے موجود الوقت فارسی زبان میں ڈھال لیا اور فرمایا : سے بکوشیم و انجام کار آن بود که آن خواهش و رائے نیزدا بوده ۲۵ - اسی طرح مولانا روم نے آنحضرت کے بچپن کے متعلق فرمایا تھا کہ : سے آنکه فضل تو دریں طفلیش داد : کش نشان ندهد بصد ساله جهاد در ثمین ص) حضرت اقدس نے اس تخیل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروں تک وسعت دیدی اور فرمایا ہے اتباعش می دهد دل را کشاد : کش نه بیند کس بصد ساله جهانی کش اور کس میں صنعت تجنیس بھی پیدا ہو گئی۔در تمین ۱۳) ۲۶ - احمد سے نیم گر کر احد بننے کو سبھی شاعر بیان کرتے آئے ہیں۔امیر خسرو کہتے ہیں : میم احمد که در احد غرق است به کمر خدمت از پٹے فرق است احمد اندر احد کمربند است : یعنی این بنده وان خدا وند است شه ے ترجمہ : ہم اپنی طرف سے جو کوشیش بھی کرتے ہیں اس کام کا نتیجہ یہ ہوتاہے جواللہ تعالی کاحکم اور اس کی منشا ہو۔سے ترجمہ : ہم اپنی طرف سے جو کوشش بھی کرتے ہیں ، اس کام کا نتیجہ یہی ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی خواہش اور مرضی ہو۔ه ترجمه : تیرے فضل نے اسے بچپن میں جو کچھ عطا فرمایا ہے ، وہ سو سال کے مجاہدہ میں بھی کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔که ترجمه: آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی پیروی دل کو اسقدر انشراح بخشتی ہے، جو کوئی سو سال کے جہاد سے بھی نہیں دیکھ پاتا۔ترجمہ : احمد کا میم جو احد میں غائب ہے ، وہ دونوں میں فرق کے لئے کمر ہمت کا پیٹکا ہے۔گویا احمد احد کی خدمت میں تیار کھڑا ہے یعنی یہ غلام اور وہ آتا ہے۔