درثمین فارسی کے محاسن — Page 275
ورا و و و یعنی لا هُمُ الله وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اليمه آل عمران : (۷۸) یعنی اس بڑھ کر تکلیف دہ اور کوئی امر نہیں ہو سکتا۔کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا، بلکہ ان کی طرف قیامت کے دن آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔استغفر الله رَبّى مِنْ كُلّ ذَنْبٍ وَاتُوبُ اِلَيْه۔۲۰ - اختصار بھی شعر کی خوبیوں میں سے ہے۔ما ہذا پر ابن رشیق کا فیصلہ دیکھئے کہ خاذا جاء بان يختصره ان كان طويلا۔۔۔۔۔هوا ولی به من مبتدعه یعنی اگر کوئی کسی لے شعر کو مختصر کر لے تو وہ اس شعر کو اپنانے کا زیادہ حقدار بن جاتا ہے۔یہ نسبت اس کے جنسی پہلے وہ شعر کہا تھا۔چنانچہ مثنوی مولانا روم دفتر اول میں ہے : سے است اسے خنگ چشمے کہ اوگریانی است : اسے ہمایوں نے لے کر او بریانی اوست دیکھیے حضرت اقدس نے اسے کتنا مختصر کر دیا ہے اور معنوں میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔سے اے خنگ دیده که گریانش : اسے ہمایوں ولے کہ بریانش ۲۱ - اسی طرح گلستان سعدی میں ہے اسے در ثمین صنف) فرق است میان آنکه یارش در بره با آنکه دو چشم انتظارش بر درد اسے حضرت اقدس نے یوں مختصر کیا : سے آن یکے را نگار خویش به بر دیگر چشم انتظار به دار در تمین منث) سے ترجمہ : وہ آنکھ ٹھنڈی ہے جو اس کے لئے روتی ہے ، اور وہ دل مبارک ہے جو اس کے لئے جلتا ہے۔سے ترجمہ : ان دونوںمیں فرق ہے ایک جس کا مجوب کے پہلوی ہے اور دوسرا یکی آنکھ جو کے انتظامیں روزہ رنگا ہوا ہے۔سے ترجمہ : ایک شخص کا محبوب اس کے پہلو میں ہے، اور دوسرے کی آنکھ اس کے انتظار میں دروازہ پر کی ہوئی ہے۔