درثمین فارسی کے محاسن — Page 240
جس کا دوسرا نام ابداع ہے ، اسے کہتے ہیں کہ ایک شعر میں کسی دوسرے شعر کا کوئی حصہ رکھ دیا جائے اور اگر وہ دوسرا شعر غیرمعروف ہو تو ساتھ ہی کسی نہ کسی رنگ میں اس بات کو ظاہر کر دیا جائے کہ اس میں کسی اور شاعر کے شہر کا کوئی بڑا یا چھوٹا حصہ داخل کیا گیا ہے۔(تنویر الابصار ص ) پس دوسرے شاعر کا حوالہ دینا اسی صورت میں ضروری ہے، جب وہ شعر اپنی نظم میں شامل کیا جائے اور وہ ہو بھی غیر مشہور۔لیکن اگر نظم میں شمل نہ کیا جائے۔بلکہ ویسے ہی کسی تحریر یا تقریریں نقل کیا جائے، تو پھر ماخذ کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں خواہ وہ شہر مشہور ہویا نہ ہو۔حضرت اقدس نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں دوسرے اساتذہ کے قریبا دو اڑھائی سو شعر نقل کئے ہیں ( دیکھئے ضمیمہ بذا نمبر۲ ) اور حسب دستور عموما ان کے ماخذ کا حوالہ نہیں دیا۔ہاں بعض جگہ متعلقہ شاعر کا ذکر بھی کر دیا ہے۔حضرت اقدس نے سب سے زیادہ دیعنی نوے سے اوپر ) جس بزرگ کے شعر نقل کئے ہیں وہ شیخ سعدی ہیں۔ان کے بعد مولانا روم اور حافظ شیرازی کے چھپی پچیس شعر۔اسی طرح مولانا جامی کے چھ شعر نقل کئے ہیں۔مولانا نظامی گنجوی کے پانچ۔امیر خسرو کے چار - عمرخیام اور سرمد کے تین تین - عبداللہ انصاری کے دو اور بعض شعراء کا ایک ایک۔ان کے علاوہ کچھ شعر ضرب المثل ہیں اور باقی چند شعروں کے متعلق معلوم نہیں ہو سکا، کہ وہ کسی کے شعر ہیں۔بعض بزرگوں کے شعر اور مصرعے حضرت اقدس کو الہام بھی ہوئے پچنا نچہ شیخ سعودی کے آٹھ۔حافظ شیرازی کے تین ، نظامی گنجوی کے دو اور ناصر علی سرہندی ، عمر خیام اور امیر خسرو کا ایک ایک شعر - یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت اقدس نے دوسرے بزرگوں کے جو شعر نقل کئے