درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 239 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 239

۲۳۹ نقل اشعار شعرائے دیگر عام دستور ہے کہ مصنف اور مقرر استدلال یا استشہاد کی خاطر دوسرے شعرا کے شعر اپنی تحریر یا تقریر میں سے آتے ہیں۔چونکہ ایسے اشعار مونا زبان زد خلائق ہوتے ہیں یاکم از کم علماء میں رائج ہوتے ہیں۔اس لئے تحریر یا تقریر میں یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ کس کے شعر ہیں ؟ البتہ اگر کوئی شعر یا مصرع کسی تنظیم میں شامل کیا جائے ،خواہ درمیان یاکسی نظم کے آخرمیں تو اسے تضمین کہتے ہیں۔اس صورت میں اس نظم میں متعلقہ شاعر کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے اور بعض دفعہ ایسا اشارہ نہیں بھی کرتے خصوصاً جب وہ شعر کافی مشہور و معروف ہو۔شکل مولانا جامی کی ایک غزل کے یہ دو شعر ہیں : سے دور ازاں سب جاں یکے نالاں نی است ؛ بشنو از نی چون حکایت میکند با زان سب ہنچوں شکر مانده جدا : اند جدائی با شکایت میکنه آخری دونوں مصرعے مثنوی مولانا روم کا پہلا شعر ہے۔لیکن مذکورہ غزل میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیاگیا۔کیونکہ وہ نہایت ہی مشہور شعر ہے۔چنانچہ احمد ہاشمی نے جواہر البلاغت میں لکھا ہے: "التضمن ويسمى الايداع وهو ان يضمن الشعر شيئا من شعر أخر مع التنبيه عليه ان لم يشتهر۔يعني تضمين ه : ان لیوں سے دور جان ایک روتی ہوئی بانسری ہے، ہستو یہ بانسری کیا حکایت بیان کر رہی ہے۔ان شکر جیسے (میٹھے لبوں سے جدا ہو کر ، جدائیوں کی شکایت کر رہی ہے۔کر،