درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 241 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 241

ہیں۔ان میں سے بعض کے الفاظ میں اور ان بزرگوں کی کتب کے مروجہ نسخوں میں مندرج ان اشعار کے الفاظ میں کہیں کہیں کچھ فرق ہے۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ایک یہ کہ نقل در نقل ہوتے ہوئے ان کتر کے مختلف نسخوں میں بہت سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔لہذا ممکن ہے کہ جس نسخہ میں حضرت اقدس نے کوئی شعر ملاحظہ فرمایا ہو۔اس میں اسی طرح لکھا ہو ، جیسے حضرت اقدس نے نقل کیا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے اس میں خود تبدیلی کرلی ہو۔مثلاً مثنوی مولانا روم کا جو نسخہ خاکسار کے پاس ہے اس میں ایک شعر یوں لکھا ہے: تا دل مرد حش را ناید بدرد : پیچ قومی را خدا رسوا انکی الی ظاہر ہے کہ مصرع اول میں " ناید" کا لفظ سہو کا تب ہے۔کیونکہ دوسرے مصرع میں فعل ماضی ہے۔لہذا پہلے مصرع میں بھی ماضی ہونا چاہیے نہ کہ مضارع۔چنانچہ حضرت اقدس نے نقل کرتے وقت نماید کو نامد سے بدل لیا۔ایسی تصحیح اہل فن کے نزدیک تحسین ہے۔ے ترجمہ : جب تک کسی مرد خدا کے دل میں دور پیدا نہیں ہوتا، خدا کی قوم کو ذلیل نہیں کرتا۔