درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 219 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 219

۲۱۹ دیکھئے حضرت اقدس اپنے مطالب کی وضاحت کے لئے کس طرح مظا ہر قدرت کام لیتے ہیں۔این چنیں کس پورو نہد یہ جہاں : بر جہاں عظمتش کنند عیاں چوی بیابد بهار باز آید : موسم لاله زار باز آید وقت دیدار یار باز آید : بے دلاں را قرار بازه آید ماہ روئے نگار باز آید : خور نصف النهار باز آید با زه خت رو بناز لاله و گل : باز خیزد ز بلبلان غلغل دست غیبش به پرورد زکرم : صبح صدقش کند ظهور اتم نویہ الہام ہمچو باد صبا : نزدش آرد زغیب خوشبودا ور ثمین مت) نفسیات۔یہ عجیب بات کہ کتب فصاحت و بلاغت میں مظاہر قدرت کی اہمیت کا تو ذکر ہے لیکن نفسیات کا کہیں نام تک نہیں۔کم از کم خاکسار کو کہیں نظر نہیں آیاحالانکہ نفسیات سے واقفیت کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔خصوصا مصلحین کے لئے حضرت اقدس کو اس میں کامل دستگاہ حال تھی۔اب آپ کے کلام سے نفسیات کے بیان کے نمونے ملاحظہ فرمائیے اسے لات ترجمہ : ایسا شخص جب دنیامیں ظاہر ہوتا ہے تو جہان پر اس کی عظمت ظاہر کی جاتی ہے۔جب آتا ہے تو موسم بہا پھر آجاتاہے اور پھولوں کا موم لوٹ آتا ہے۔یار کے یار کا وقت پھر آجاتاہے اور پر عاشقوں کے دلوںکو قرار آ جاتا ہے۔محبوب کا چاند سا چہرہ نظر آنے لگتا ہے، سورج پھر نصف النہار پر واپس آجاتا ہے۔پھر لالہ اور گلاب کے پھول ناز سے کھلنے لگتے ہیں۔اور بلبلیں پھر چہچہانے لگتی ہیں۔خدا کا غیبی ہاتھ اپنی مہربانی سے اس کی پرورش کرتا ہے۔اور اس کی سچائی کی روشنی پور سے طور پر ظاہر ہو جاتی ہے۔الہام کا نور باد صبا کی طرح غیب سے اس کے پاس خوشخبریاں لاتا ہے۔