درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 218 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 218

۲۱۸ حسن تو غنی کند زیر شن + مہر تو بخود کشد زہر یار ن نمکینت از نہ بودے : از حسن نہ بودے پیچے آثار شوخی ز تو یافت روئے خوباں : رنگ از تو گرفت گل به گلزار سیمیں ذقنای که سیب دارند + آمد زیمان بلند اشجار این ہر دو انداں دیار آیند : گیسوئے بتان و مُشک تا تار از بهر نمایش جمالت + بینم همه چیز آئینه دار ہر برگ صحیفہ ہدایت + ہر جوہر و عرض شمع بردار ہر نفس بتو رہے نماید : ہر جان بد ہد صلائے این کار ہر ذرہ فشاند از تو نورے * ہر قطرہ براندازہ تو انہار ہر شو ز عجائب تو شورے : ہرجانہ غرائب تو اذکار از یاد تو نورها به بینم به در حلقه عاشقان خونبار ور ثمین (۱۳۸۳) لے ترجمہ احسینوں کے چڑی نے تجھی سے رونق پائی پھول نے چین میں تجھی سے رنگ حاصل کیا۔چاندی جیسی تھوڑیوں والوںکے پاس جو سیب (جیسے خسار) ہیں وہ انہی بند درختوں یعنی تیری اعلی صفات سے سے حاصل ہوئے ہیں۔ر اس شعر میں آمد زہاں بلند اشجار کے الفاظ قابل تشریح میں معشوق کے سیتے اونچے قد کو سرو کہتے ہیں۔اسی طرح او پر جو صفات الہی بیان ہوئی ہیں انہیں اُونچے درخت قراردیا۔پھران درختوں کو پھلدار قرار دیکر بتایا که سینوں کی یہ خوبیاں انہیں اپر تو ہیں یہ دونوں اسی ملک سے آتے ہیں یعنی سینوں کے گیس اور تا تارک مشک تیرے جمال کی نمائش کے لئےمیں ہر چیز کوآئینہ تھامے ہوئے دکھتا ہوں، ہری ہدایت کی کتاب ہے اور ہر ہر و عرض شمع تھامے ہوا ہے۔رف تیرا رستہ دکھاتا ہےاور باران سی ام کیلئے پکار رہی ہے۔ہر میری یہ روی پھیلاتا اور ہرقطر تیری نہیں بہاتا ہے